دیوبند،سماج نیوز سروس: روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جو نہ صرف روحانی بالیدگی اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہوتا ہے بلکہ جسمانی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے ؛لیکن کچھ افراد کے لئے روزہ رکھنا طبی اعتبار سے چیلنج بن سکتا ہے ۔خاص طور پر وہ لوگ جو کسی بیماری ذیابیطس ،عارضہ قلب یا ھائی بلڈپریشر کے امراض میں مبتلا ہوں ۔ان خیالات کا اظہار جامعہ طبیہ دیوبند کے ڈائریکٹرومنیجر نیز آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے صدر ڈاکٹر انور سعید نے کیا ،انہوں نے کہا کہ روزہ رکھنے سے جسم میں مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو انسانی صحت پر بہتر اور مضر دونوں طرح کے اثرات مرتب کرسکتی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ روزہ ہمارے جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے میں مددگارثابت ہوتا ہے اور جگر وگردوں کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے اس کے علاوہ روزہ رکھنے سے ذہنی یکسوئی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ڈپریشن اور نفسیات امراض میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ڈاکٹر انورسعید نے کہا کہ روزہ رکھنے سے شوگر بلڈپریشر اور جسم میں موجود پولیسٹرول میں صحت مند تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں ،خاص طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر ٹائپ 2؍ شوگر کے مریضوں کی شوگر کنٹرول ہونے میں مددملتی ہے ،اس کے علاوہ روزہ رکھنے سے جسمانی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے ،جسم میں چکنائی کا لیول کم ہوجاتا ہے جو دل کی صحت کے لئے مفید ہے ۔ڈاکٹرانور سعید نے بتایا کہ جو لوگ شوگر ،ھائی بلڈپریشر ،عارضہ ٔ قلب،معدہ یا گردوں کے امراض میں مبتلاہوں ،انہیں رمضان المبارک کے مہینہ میں روزہ رکھنے سے پہلے بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔روزہ کے دوران پانی کی کمی بلڈشوگر میں کمی یا زیادتی ،جسمانی تھکاوٹ یا دیگر پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ بنا رہتا ہے ؛لیکن اگر روزہ رکھنے سے پہلے مناسب تیاری کرلی جائے تو اس طرح کے خطرات سے بچاجاسکتا ہے انہوں نے مشورہ دیا کہ چائے ،کافی اور کولڈڈرنکس سے پرہیز کیا جائے اورکم نمک والی خوراک استعمال کی جائے ،خاص طور پر سحری میں زیادہ مصالحہ دار اور چکنائی والی اشیاء کے استعمال سے دور رہا جائے اور صحت مند متوازن عذائیں استعمال کی جائیں ،نیز افطار سے سحری تک کم ازکم آٹھ گلاس پانی پینے کی کوشش کی جائے ۔












