کانپور،سماج نیوز سروس: ہلدوانی (اتراکھنڈ) کے بن بھول پورہ اور ریلوے کالونی کے پچاس ہزار سے زائد مکینوں کی بے دخلی کے معاملے میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی جانب سے سنائے گئے حالیہ تاریخی فیصلے کا جمعیۃ علماء اترپردیش نے دلی خیرمقدم کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا یہ واضح حکم کہ جب تک متاثرہ خاندانوں کی منظم اور باعزت بازآبادکاری کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا، کوئی انہدامی کارروائی نہیں کی جائے گی، ان ہزاروں غریب اور بے بس شہریوں کے لیے ایک بڑی راحت ہے جن کے سروں پر برسوں سے بے گھرہونے کی تلوار لٹک رہی تھی۔ اس اہم اور تاریخی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء اترپردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی دور اندیش قیادت اور مستقل قانونی جدوجہد کا عظیم ثمرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2023 میں جب مقامی انتظامیہ طاقت کے نشے میں راتوں رات پوری بستی کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرنے پر آمادہ تھی، تب جمعیۃ علماء ہند نے ہی سب سے پہلے مظلوموں کی آواز بن کر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس ظالمانہ کارروائی پر فوری روک (Stay) لگوائی تھی۔ آج عدالت کی جانب سے دیا گیا یہ عبوری حکم نامہ دراصل اسی قانونی تسلسل، عزمِ صمیم اور محنتِ شاقہ کا نتیجہ ہے۔ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کہا کہ کسی بھی جمہوری ملک میں قانون کا مقصد معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات کو کچلنا نہیں بلکہ انہیں تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ کسی بھی مہذب اور آئینی نظام میں یہ ہرگز قابلِ قبول نہیں کہ دہائیوں سے آباد لوگوں کو متبادل رہائش فراہم کیے بغیر بے دخل کر دیا جائے۔ ریاست کی یہ اولین آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقِ رہائش کا تحفظ کرے۔ ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء یوپی نے سپریم کورٹ کے اس ہمدردانہ رویے کی بھی ستائش کی جس میں رمضان المبارک اور عید الفطر کے مقدس ایام کے پیش نظر رجسٹریشن کیمپ 19 مارچ کے بعد لگانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ روزے داروں کو اس کڑی دھوپ اور مشقت میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ مذہبی جذبات اور انسانی ہمدردی کے احترام کی ایک بہترین مثال ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانیت کو کسی بھی انتظامی یا توسیعی کارروائی پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے ہلدوانی کے متاثرین کو یقین دلایا کہ جمعیۃ علماء اترپردیش، مرکزی قیادت کے شانہ بشانہ اس پوری جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں پردھان منتری آواس یوجنا (EWS) کے تحت لگائے جانے والے رجسٹریشن کیمپوں اور سرکاری سہولیات کے حصول کے ہر مرحلے میں جمعیۃ کے کارکنان مقامی سطح پر مکمل رہنمائی اور تعاون فراہم کریں گے، تاکہ معلومات کی کمی یا کسی دباؤ کی وجہ سے کوئی ایک بھی حق دار خاندان اپنے بنیادی حق سے محروم نہ رہ جائے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا مشن صرف عدالت کے ایوانوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ جب تک ہر ایک متاثرہ خاندان کو باعزت اور محفوظ متبادل رہائش نہیں مل جاتی، ہماری یہ پرامن اور آئینی جدوجہد سڑک سے لے کر سپریم کورٹ تک جاری رہے گی۔












