ناظم بیگ
بلند شہر؍سماج نیوز سروس:بلند شہر کے بگراسی علاقے میں ہفتہ کی صبح اس وقت سنسنی پھیل گئی جب گھنگھرائولی گاؤں میں راجباہے کے پاس ایک کھیت میں 32 سالہ خا تون کی سر کٹی لاش بر آمد ہوئی ۔ قاتلوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے خاتون کا سر اس کے دھڑ سے الگ کر کے غائب کر دیا تھا ۔حالانکہ پولیس کی سخت کامبنگ کے تقر یبا سات گھنٹے بعد جائے وقوعہ سے پانچ سو میٹر کے فا صلے پر خاتون کا سر جھاڑیوں سے بر آمد ہوا ۔ خاتون کے ہاتھ پر ببلی اور جونی سنگھ نام کندہ تھے ۔جن کی بنیاد پر پولیس خاتون کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اطلاع کے مطا بق ہفتہ کی صبح تقریباً 7:30 بجے گاؤں والے اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ انہوں نے ایک خاتون کی خون میں لت پت لاش جھاڑیوں کے پاس پڑی دیکھی۔ گاؤں والے لاش کو دیکھ کر حیران رہ گئے، کیونکہ اس کا سر غائب تھا۔مو قع پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی ۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور اعلیٰ افسران بھی مو قع پر پہنچ گئے ۔ لاش ملنے کے بعد سب سے بڑا چیلنج خاتون کے سر کو تلاش کرنا تھا۔پولیس نے گاؤں والوں کے ساتھ مل کر آس پاس کے جنگلات اور راجباہے میں سرکو تلاش کرنا شروع کیا ۔تقر یبا سات گھنٹے کی مشقت کے بعد پولیس کا آپر یشن کامیا ب ہوگیا اور جائے واردات سے پانچ سو میٹر کے فا صلے پرسرسوں کے کھیت سے خاتون کا کٹا ہوا سر بر آمد ہوا ۔جسے پولیس نے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ۔پولیس کی ابتدائی تحقیقات اور جائے و اردات کا معائنہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آوروں نے بے رحمانہ طر یقہ سے خاتون کا قتل کیا ہے ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قتل کسی دوسری جگہ پر کیا گیا ہے ،کیونکہ حملے کے وقت کی گئی جدو جہد کے آثار بھی موجود تھے ۔پولیس اس سنسنی خیز معا ملے کی گہرائی سے تفتیش کررہی ہے ۔خاتون کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس کے لیے سب سے بڑا سرا غ خاتون کے دائیں ہاتھ پر پہلے لائن میں ’کرت لے پتا ‘،دوسری لائن میں ببلی اور تیسری لائن میں جونی سنگھ لکھا ہوا تھا ۔ پولیس کا خیال ہے کہ متوفی کا نام ببلی ہوسکتا ہے۔ ایس ایس پی نے ضلع کے تمام تھانوں اور آس پاس کے اضلاع ہاپوڑ، میرٹھ اور علی گڑھ پولیس کو مطلع کیا ہے۔ ہاتھ کی تصاویر سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر شیئر کی گئی ہیں تاکہ خاندان کا کوئی بھی فرد اسے پہچان سکے۔قاتلوں نے جس طرح سے سر کو دھڑ سے الگ کیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پیشہ ور مجرم ہو سکتے ہیں یا مقتول کے تئیں گہری ناراضگی رکھتے ہیں۔ پولیس حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ مجرم اپنی شناخت چھپانے کے لیے اکثر سر اتار دیتے ہیں یا چہرے کو بگاڑ دیتے ہیں۔ایس ایس پی دنیش کمار سنگھ نے بتایا کہ واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلع کی فورنسک ٹیم اور ڈاگ اسکوائڈ نے بھی موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ پولیس نے قریبی موبائل ٹاورز سے ڈمپ ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ واقعے کے وقت اور اس سے پہلے علاقے میں کون سے موبائل نمبر فعال تھے۔ متوفیہ کے ہاتھ پر کندہ ناموں سے اہم سراغ ملنے کی امید ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور شناخت کے بعد ہی قتل کی اصل وجہ واضح ہوسکے گی۔ کیس کے حل کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔












