دیوبند ،سماج نیوز سروس: جمعیۃ علماء ہند کی اتر پردیش یونٹ کی جانب سے مولانا محمد موسیٰ قاسمی کو ایک اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہیں ”جمعیۃ سدبھاؤنا منچ‘‘اتر پردیش کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔یہ تقرری 15 اپریل 2026 کو لکھنؤ میں واقع تنظیم کے دفتر سے جاری ایک مکتوب کے ذریعے عمل میں آئی، جمعیۃ علماء اترپردیش کے جنرل سیکریٹری مولاناامین الحق عبداللہ قاسمی کے مطابق جمعیۃ کی قیادت نے موجودہ سماجی حالات کے پیش نظر باہمی بھائی چارہ، مذہبی ہم آہنگی اور مختلف طبقات کے درمیان مکالمے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ انہی مقاصد کے تحت ”جمعیۃ سدبھاؤنا منچ” کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جس کا بنیادی ہدف معاشرے میں اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔اسی سلسلہ میںصوبائی صدر مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے مولانا موسیٰ قاسمی کی تنظیمی تجربہ کاری، سماجی خدمات اور تنظیمی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں یہ اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ تنظیم کو یقین ہے کہ ان کی قیادت میں منچ کی سرگرمیوں کو صوبہ بھر میں مؤثر انداز میں چلایا جا سکے گا اور اضلاع کے درمیان بہتر تال میل قائم ہوگا۔جاری مکتوب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جلد ہی منچ کے پروگراموں، آئندہ لائحہ عمل اور صوبائی کنوینر کی ذمہ داریوں سے متعلق تفصیلی ہدایات جاری کی جائیں گی، تاکہ پورے صوبے میں ان سرگرمیوں کو منظم اور تیز رفتار انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔واضح ہوکہ مولانا موسیٰ قاسمی اس وقت جامعہ الہدایہ نگلہ راعی کے ذمہ دارہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جمعیۃ علمامغربی اتر پردیش میں سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے سماجی، مذہبی اور تعلیمی سرگرمیوں میں سرگرم کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔ان کی اس تقرری پر علاقے کے لوگوں، تنظیمی عہدیداران اور حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سبھی نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی قیادت میں ”جمعیۃ سدبھاؤنا منچ” صوبے میں سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور مختلف طبقات کے درمیان بہتر روابط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔اس تعلق سے مولانا موسیٰ قاسمی نے کہا کہ ہماری قیادت بالخصوص صدر جمعیۃ علماہند مولانا سید محموداسعد نے یہ بڑی ذمہ داری سونپ کر جواعتماد جتایاہے،ان کی امیدوں کے مطابق تمام سرگرمیوں کوزمینی سطح پر پہنچانے اور مثبت نتائج کے حصول کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کی جائیگی ۔












