دیوبند،سماج نیوز سروس: سہارنپور کے پلکھنی بستی میں واقع مولانا شیخ الہند میڈیکل کالج کا نام تبدیل کئے جانے سے متعلق بیان کو لے کر پورے ضلع کی سیاست گرما گئی ہے ۔سابق ایم ایل اے منوج چودھری کے اس بیان کے بعد جہاں مختلف طبقات میں سخت ناراضگی دیکھی جارہی ہے وہیں اس مسئلہ پر مسلم طبقہ کی جانب سے اب تک کوئی واضح رد عمل سامنے نہیں آیا ہے ۔واضح ہوکہ ایک پروگرام کے دوران سابق ایم ایل اے منوج چودھری نے اپنی تقریر کے دوران شیخ الہند میڈیکل کالج کا نام تبدیل کرکے سمراٹ مہیر بھوج کے نام پر رکھے جانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے اور کئی لوگوں نے اس کی سخت تنقید بھی کی ہے ۔پروگرام کے دوران ڈائز پر موجود کیرانہ کی ممبرپارلیمنٹ اقراء حسن نے بھی اس معاملہ میں اپنا کوئی ردعمل نہیں دیا ۔بلکہ انہوں نے سابق ایم ایل اے منوج چودھری کو دیوبند اسمبلی حلقہ کی سیٹ سے سماج وادی پارٹی کا ممکنہ امیدوار بتایا جس کی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔واضح ہوکہ پلکھنی میں واقع میڈیکل کالج کا نام عظیم مجاہد جنگ آزادی مولانا محمود الحسن دیوبندی ؒ کے نام پر شیخ الہند میڈیکل کالج رکھا گیا تھا ۔یاد رہے کہ شیخ الہند مجاہدین جنگ آزادی کے نمایاںمجاہدین میں شامل رہے ہیں اور ان کے تاریخی رول کو دیکھتے ہوئے ہی میڈیکل کا لج کا یہ نام رکھا گیا تھا ۔منوج چودھری کے بیان کے بعد جہاں ایک جانب مختلف تنظیموں اور شخصیات کی جانب سے سخت ناراضگی اور مخالفت درج کی جارہی ہے وہیں دوسری جانب مسلم عوامی نمائندوں اور علماء حضرات کی جانب سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہ آنے سے بحث ومباحث کا دور جاری ہے ۔وہیں دوسری جانب دادری میں منعقدہ سماجوادی سمانتا بھائی چارہ ریلی کی کامیابی اور سماجوادی پارٹی کے قائد اکھلیش یادو کی قیادت میں گوجر سماج کی یکجہتی کے ساتھ شمولیت کو دیکھتے ہوئے منوج چودھری کے اس بیان پر پارٹی کا کوئی بھی عہدہ دار یا عوامی نمائندہ مخالفت میں سامنے نہیں آیا ۔حالانکہ اس پورے واقعہ میں ایک نئے مسئلہ کو جنم دے دیا ہے جس کی وجہ سے آنے والے وقت میں اس موضوع پر سیاسی بیان بازی مزید تیز ہونے کے آثار ہیں ۔












