رب العالمین کے فضل وکرم سے یکم ذوالقعدہ 1447ھ بمطابق 18 اپریل 2026ء کا مبارک دن اپنے ساتھ سفرِ حج کی نوید لے کر آیا، جس کے آغاز نے ہر صاحبِ ایمان کے دل کو عقیدت سے سرشار کر دیا۔ سرزمینِ وحی نے چاروں براعظموں سے آنے والے اللہ کے مہمانوں کے لیے اپنی آغوش وا کر دی اور مدینہ منورہ کے ‘شہزادہ محمد بن عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے’ اور جدہ کے ‘شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے’ پر اُترنے والی پہلی بین الاقوامی پروازوں نے اس عظیم الشان روحانی سفر کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔
ذرا اس رقت آمیز لمحے کا تصور کیجیے: نئی دہلی سے تین سو اکہتر ہندوستانی حاجیوں کا پہلا قافلہ مکہ مکرمہ کی طرف رواں ہوا، جبکہ ممبئی سے بھی تقریباً چار سو حاجیوں کو لے کر پہلی پرواز مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین پر اتری۔ ان خوش نصیبوں کے استقبال کے لیے ہندوستانی سفیر ڈاکٹر سہیل اعجاز خان اور قونصل جنرل فہد سوری خود موجود تھے، جبکہ سعودی جانب سے نائب وزیرِ حج و عمرہ ڈاکٹر عبدالعزیز الوزّان نے ان مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ ہندوستان کے علاوہ دیگر کئی ممالک سے بھی پروازوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور ‘طریق مکہ’ منصوبے کے تحت متعدد ممالک کے حجاج کو یکم ذوالقعدہ ہی سے مدینہ منورہ اور جدہ میں خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔
اس مقام پر ماضی پر ایک نظر ڈالنا بے محل نہ ہوگا۔ آج سے محض ایک صدی قبل سفرِ حج ایک ایسا دشوار گزار مرحلہ تھا جس میں حاجی اپنے اہل و عیال سے اس طرح رخصت ہوتا تھا جیسے شاید اب کبھی واپسی نہ ہو۔ برِّ صغیر سے حجاز تک بحری سفر مہینوں پر محیط ہوتا، راستے میں وبائی امراض، سمندری طوفان اور ڈاکوؤں کا خوف ہر لمحہ حاوی رہتا تھا۔ قافلے ریگستانوں میں بھٹک جاتے، پانی اور خوراک کی قلت جان لیوا ثابت ہوتی، اور کتنے ہی مشتاقانِ بیت اللہ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی جانِ عزیز سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ مگر آج کا یہ پرامن اور جدید سہولیات سے آراستہ سفر ماضی کی ان کٹھن مسافتوں سے کتنا مختلف ہے۔ مقدس سرزمین پر قدم رکھتے ہی عازمین کے چہروں پر جو طمانیت اور خوشی نظر آتی ہے وہ دیدنی ہے۔ برسوں سے اس لمحے کا خواب دیکھنے والی اشکبار آنکھوں کا استقبال پھولوں اور آبِ زمزم سے ہو رہا ہے، اور وہ تھکن جو کبھی مہینوں کی مسافت کے بعد حاجیوں کو نڈھال کر دیتی تھی، اب چند گھنٹوں کے آرام دہ ہوائی سفر نے اسے ماضی کی داستان بنا دیا ہے۔
مملکتِ سعودی عرب کی جانب سے اس سال حاجیوں کے لیے جو سہولیات فراہم کی گئی ہیں وہ اپنی وسعت اور تنظیم میں بے مثال ہیں۔ وزارتِ نقل و رسد نے اعلان کیا ہے کہ حج 1447ھ کے لیے آمدورفت کے پورے نظام کی مکمل تیاری کر لی گئی ہے اور تیاریوں کی بلند ترین سطح فعال کر دی گئی ہے۔ اکتیس لاکھ سے زائد ہوائی نشستیں مختص کی گئی ہیں، ہزاروں ٹرینیں بشمول ‘قطارِ حرمین’ اور ‘قطارِ مشاعر’ حجاج کی نقل و حرکت کے لیے تیار ہیں، اور فضائی، زمینی، بحری اور ریلوے نظام کو ایک مربوط ماڈل کے تحت آپس میں جوڑا گیا ہے تاکہ لاکھوں مسافروں کو مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے ان کی منزلوں تک پہنچایا جا سکے۔ محکمہ پاسپورٹ نے بھی اعلان کیا ہے کہ تمام فضائی، زمینی اور بحری داخلی راستوں پر حجاج کے استقبال کی مکمل تیاری کر لی گئی ہے، جبکہ حجاج کی بسوں کی رہنمائی کا مرکز بھی اپنا عملی منصوبہ مکمل کر چکا ہے تاکہ بیرونِ ملک سے آنے والے حجاج کی گاڑیوں کو مکہ مکرمہ میں ان کی قیام گاہوں تک فوری طور پر پہنچایا جا سکے۔ اس نظام کی خوبی یہ ہے کہ چالیس سے زائد سرکاری ادارے ایک ہی مرکزی ہدف کے تحت اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں کہ حجاج کو ذرا بھی تکلیف نہ ہو۔
سعودی وژن 2030 کے تحت حج کی خدمات میں جو انقلابی تبدیلی آئی ہے اس کا سب سے نمایاں مظہر ‘طریق مکہ’ منصوبہ ہے جو اپنے آٹھویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ اس اختراعی منصوبے کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ حج کا سفر حاجی کے گھر سے ہی شروع ہو جائے؛ اس کے ویزے کا اجراء برقی طریقے سے ہو، پاسپورٹ کی کارروائی اس کے اپنے ملک کے ہوائی اڈے پر ہی مکمل ہو جائے، صحت کی شرائط پوری کی جائیں، سامان کی نشان دہی اور درجہ بندی وہیں ہو جائے، اور جب حاجی سعودی عرب پہنچے تو اسے کسی قطار میں کھڑے ہونے، کسی کاؤنٹرپرانتظار کرنے یا اپنا سامان اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے اور وہ سیدھا اپنی مخصوص بس میں بیٹھے جبکہ اس کا سامان خود بخود اس کی قیام گاہ تک پہنچا دیا جائے۔ اس سال یہ منصوبہ سترہ بین الاقوامی داخلی راستوں کے ذریعے دس ممالک میں فعال ہے، جن میں دو نئے ممالک بھی پہلی بار شامل کیے گئے ہیں۔ 2017ء میں اپنے آغاز سے لے کر اب تک یہ منصوبہ بارہ لاکھ سے زائد حجاج کی خدمت کر چکا ہے۔ سعودی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کا ادارہ ‘سدایا اس منصوبے کو فنی سطح پر مسلسل معاونت فراہم کر رہا ہے، جس کے تحت تمام سترہ داخلی راستوں پر متحرک ورک سٹیشن نصب کیے گئے ہیں اور حیاتیاتی شناخت (بائیومیٹرکس) کی رجسٹریشن انتہائی تیز رفتاری سے ہو رہی ہے۔ اس سہولت کا حسن یہ ہے کہ حاجی کو سعودی عرب پہنچ کر پاسپورٹ کے طویل مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا اور اس کی روحانی تیاری میں کوئی خلل نہیں آتا۔ اس کے علاوہ ‘مسافر بلا حقیبہ’ جیسی اختراعی سہولت نے حجاج کو بھاری سامان اور آبِ زمزم کارگو کے ذریعے براہِ راست ان کے گھروں تک بھجوانے کی آسانی فراہم کر دی ہے۔
عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال حجاج کی حفاظت اور رہنمائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا شاندار استعمال ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے ‘نسک’ وہ مرکزی ڈیجیٹل دروازہ ہے جس کے ذریعے حج کی رجسٹریشن، ویزے کا حصول اور مناسک کی ادائیگی کے تمام مراحل طے ہوتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کے ذریعے ہجوم کی کثافت کی نگرانی حقیقی وقت میں کی جا رہی ہے، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مساجد کے داخلی راستوں پر ڈیجیٹل تختیاں نصب کی گئی ہیں جو رنگین اشاروں کے ذریعے حجاج کو بتاتی ہیں کہ کس جگہ گنجائش ہے اور کہاں پوری جگہ بھر چکی ہے۔ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں مصنوعی ذہانت سے لیس نگرانی کے نظام ہجوم کی حرکت کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کو وقوع سے پہلے ہی روکا جا سکے۔ یہ احتیاطی تدابیر گزشتہ سالوں 1446ھ (2024ء) کے المناک تجربے کی روشنی میں مزید سخت کی گئی ہیں جب شدید گرمی کی لہر نے تیرہ سو سے زائد قیمتی جانیں لے لی تھیں اور ان میں سے اکثریت ان غیر قانونی حجاج کی تھی جنہیں سہولیات میسر نہ تھی۔
اس سال ایک اور اہم اور بے مثال قدم اٹھایا گیا ہے جو حج کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے، اور وہ ہے طبی لیاقت کے نظام کا نفاذ۔ گزشتہ سال کے سانحے اور غیر رجسٹرڈ حجاج کی اموات کے تلخ تجربے نے سعودی حکومت کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ ویزے کا اجراء مکمل طبی معائنے سے مشروط کر دیا جائے۔ اب حاجی کو معتمد ہسپتالوں میں جامع طبی معائنے سے گزرنا پڑتا ہے، رپورٹ برقی نظام کے ذریعے بھیجی جاتی ہے، اور صرف وہی شخص ویزے کا مستحق ہوتا ہے جو صحت کے تمام معیارات پر پورا اترتا ہو۔ جو حاجی صحت کے لحاظ سے مناسک کی جسمانی مشقت برداشت کرنے کے قابل نہ ہو، اسے سفر سے روک دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ متبادل حاجی کو بھیجا جاتا ہے۔ یہ نظام بظاہر سخت ضرور ہے مگر اس کا مقصد ضیوفِ رحمٰن کی جانوں کی حفاظت ہے، خاص طور پر جب مناسکِ حج کے ایام مئی کے آخر میں آ رہے ہیں اور مکہ مکرمہ کا درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تمام حاجیوں کے لیے گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا کے ٹیکے لازمی قرار دیے گئے ہیں، اور ہر حج ویزے کے ساتھ خود بخود نوے دن کا لازمی صحت بیمہ منسلک ہو جاتا ہے جو ہنگامی طبی نگہداشت کا احاطہ کرتا ہے۔سعودی وزارتِ داخلہ نے بھی تنظیمی ضوابط سخت کیے ہیں؛ یکم ذوالقعدہ سے مکہ مکرمہ میں داخلے کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ لازمی ہے اور بغیر اجازت نامے کے داخل ہونے والوں کے لیے بیس ہزار سے ایک لاکھ ریال تک جرمانے مقرر کیے گئے ہیں، تاکہ غیر رجسٹرڈ حجاج کی وجہ سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی تکرار نہ ہو۔
یہ تمام تر انتظامات اس ہوش رُبا اجتماع کو سنبھالنے کے لیے ہیں جس کی تعداد اس سال مزید بڑھنے کی توقع ہے اور جو دنیا کا سب سے بڑا سالانہ انسانی اجتماع بننے جا رہا ہے۔ میرا پچھلے ڈیڑھ دہائی کا عینی مشاہدہ ہے کہ حج کا موسم آتے ہی مملکت کے فرماں روا سے لے کر ایک عام کارکن تک ہر شخص اپنی پوری توانائی حجاج کی خدمت کے لیے وقف کر دیتا ہے۔
چالیس سے زائد سرکاری ادارے ایک ہی مرکزی مقصد پر اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں کہ کو ذرا بھی تکلیف نہ ہو۔ خادمُ الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز حفظہ اللہ کے دورِ حکومت میں مہمان نوازی کا یہ معیار ایسے عروج پر ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ محض انتظامی کام نہیں بلکہ ایک ایمانی فریضہ ہے جسے سعودی عرب ‘خدمتِ ضیوفِ رحمٰن’ کے مقدس عنوان سے ادا کرتا ہے اور جسے وژن 2030 کے بنیادی ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ اس سال بھی شعیرہ حج کی ادائیگی کو سہل بنائے، تمام حجاجِ کرام کی حفاظت فرمائے،، اور حرمین شریفین کو تاقیامت امن کا گہوارہ بنائے رکھے۔ آمین۔












