لکھنؤ، (یو این آئی)الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے خلاف دوہری شہریت سے متعلق الزامات کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے یہ حکم جمعہ کے روز ایک نچلی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے دوران دیا جس نے ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا مسترد کر دی تھی۔یہ معاملہ ان دعووں سے متعلق ہے کہ راہل گاندھی مبینہ طور پر غیر ملکی شہریت سے وابستہ ریکارڈز کے حامل رہے ہیں۔ 28 جنوری 2026 کو ایک خصوصی ایم پی-ایم ایل اے مجسٹریٹ عدالت نے رائے بریلی کے کوتوالی تھانے کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اب مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔جسٹس سبھاش ودیارتھی کی سربراہی میں بنچ نے اس معاملے کی تفصیل سے سماعت کی۔ سماعت کے دوران مرکزی وزارتِ داخلہ نے اس معاملے میں اپنا باضابطہ موقف پیش کیا۔ عدالت نے وزارت کے فارنرز ڈویژن کو تمام متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت دی، جو عدالت کے سامنے رکھے گئے۔ درخواست گزار وگنیش شیشر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایسے دستاویزی شواہد پیش کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ راہل گاندھی برطانیہ میں بطور ووٹر درج تھے اور انہوں نے وہاں کے انتخابات میں حصہ لیا ہو سکتا ہے۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ یہ معاملہ قومی سلامتی اور شہریت سے متعلق سنگین خدشات کا حامل ہے۔ ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد آنے والے ہفتوں میں مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔دریں اثنا کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے وابستہ ہتکِ عزت کے مقدمے میں جمعہ کے روزایم پی-ایم ایل اے عدالت میں اہم سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے مدعی فریق (شکایت گزار) کی جانب سے بار بار التوا مانگے جانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور مستقبل میں کسی بھی قسم کی نرمی نہ برتنے کی وارننگ دی ہے۔ عدالت نے اب اس معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 22 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔راہل گاندھی کے وکیل کاشی شکلا نے بتایا کہ جمعہ کو عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 311 کے تحت داخل کی گئی ایک درخواست پر بحث ہونی تھی۔ تاہم، مدعی فریق کے وکیل نے ایک بار پھر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی، جسے عدالت نے اس شرط پر قبول کر لیا کہ یہ آخری موقع ہے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ مدعی فریق پچھلی کئی تاریخوں سے مسلسل التوا مانگ رہا ہے جس کی وجہ سے مقدمے کی کارروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر اگلی تاریخ پر مدعی فریق بحث کے لیے حاضر نہیں ہوتا ہے تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔اس سے قبل 28 مارچ کو ہونے والی سماعت میں مدعی فریق کے وکیل سنتوش پانڈے نے راہل گاندھی کی آواز کے نمونے کی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ راہول گاندھی کی آواز کا نمونہ لے کر اسے عدالت میں جمع کرائی گئی سی ڈی سے فارنسک لیب میں میچ کرایا جائے۔ راہل گاندھی کے وکلاء نے اس مطالبے پر سخت اعتراض درج کرایا ہے۔ بی جے پی لیڈر وجے مشرا نے اکتوبر 2018 میں راہل گاندھی کے خلاف یہ ہتکِ عزت کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ راہل گاندھی نے 20 فروری 2024 کو عدالت میں خود سپردگی کی تھی، جس کے بعد انہیں 25-25 ہزار روپے کے مچلکوں پر ضمانت مل گئی تھی۔26 جولائی 2024 کو راہل گاندھی نے عدالت میں حاضر ہو کر اپنا بیان قلمبند کرایا تھا، جس میں انہوں نے خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے اس کیس کو سیاسی سازش قرار دیا تھا۔












