چنئی، (یو این آئی) کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دہلی سے تمل ناڈو پر حکومت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ضلع ترووللور کے پونیری میں انڈیا اتحاد کے امیدواروں کی حمایت میں اپنی پہلی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ جس طرح وزیر اعظم امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ سمجھوتہ کر چکے ہیں، اسی طرح وہ تمل ناڈو میں بھی ایسا وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں جو ان کے آگے سر جھکائے رکھے۔ بی جے پی تمل ناڈو میں ایسا شراکت دار چاہتی ہے جو ریاستی اقتدار کی کنجی دہلی کے حوالے کر دے۔انہوں نے کہا، "وہ ایسا وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں جو مسٹر مودی اور مسٹر شاہ کے احکامات پر عمل کرے۔ جس طرح ٹرمپ نے مودی کے ساتھ تال میل بٹھایا ہے، بی جے پی تمل ناڈو میں بھی ویسا ہی سمجھوتہ کرنے والا وزیر اعلیٰ چاہتی ہے۔”سابق کانگریس صدر نے ریاست کی بڑی اپوزیشن جماعت اے آئی اے ڈی ایم کے کی موجودہ حالت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی اب بی جے پی اور آر ایس ایس کی مکمل غلام بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا، "بی جے پی نے اے آئی اے ڈی ایم کے کو تباہ کر دیا ہے۔ اب وہاں صرف ایک کھوکھلا ڈھانچہ باقی رہ گیا ہے۔ جس اے آئی اے ڈی ایم کے کی تمل روایتوں کے تحفظ کی ایک عظیم تاریخ تھی وہ بہت پہلے ختم ہو چکی ہے۔ نئی انا ڈی ایم کے صرف ایک نقاب ہے جس کے پیچھے بی جے پی کا اصل چہرہ چھپا ہوا ہے۔” انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے رہنما بدعنوانی کی وجہ سے مودی اور شاہ کے کنٹرول میں ہیں۔ انتخابی مقابلے کو دباؤ بمقابلہ رضامندی کی نظریاتی جنگ قرار دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے بی جے پی-آر ایس ایس کو تمل زبان اور ثقافت کا مخالف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا ایک ملک، ایک لیڈر اور ایک زبان کا نعرہ براہِ راست آئین پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا، "وہ نہیں سمجھتے کہ تمل عوام کے لیے ان کی زبان کی کیا اہمیت ہے۔ بی جے پی-آر ایس ایس بنیادی طور پر تمل مخالف ہیں اور وہ پیریار کے سماجی انصاف کے نظریات کو مٹانا چاہتے ہیں۔” لوک سبھا میں حد بندی بل کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ انڈیا اتحاد نے تمل ناڈو کے وقار کا تحفظ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خواتین ریزرویشن بل کی آڑ میں تمل ناڈو کی نمائندگی کم کرنے اور چھوٹی ریاستوں کو کمزور کرنے کی سازش کی گئی تھی، جسے اپوزیشن نے ناکام بنا دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان ریاستوں کا ایک وفاق ہے، جہاں ہر ریاست کو اپنی زبان اور ثقافت کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے، اس لیے اس انتخاب میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی شکست یقینی بنانا ضروری ہے۔












