نئی دہلی، (یواین آئی) پارلیمنٹ کے توسیعی بجٹ اجلاس میں ہفتہ کے روز دونوں ایوانوں کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ یہ اجلاس اس لحاظ سے یادگار بن گیا کہ اس دوران لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی اور ایک اہم آئینی ترمیمی بل مطلوبہ اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے منظور نہ ہو سکا۔ بجٹ اجلاس 28 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ دو طویل وقفوں کے بعد اس کے آخری مرحلے میں دونوں ایوانوں کا اجلاس 16 سے 18 اپریل تک جاری رہا، جس میں خواتین ریزرویشن سے متعلق 131واں آئینی ترمیمی بل 17 اپریل کو ووٹنگ کے دوران دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا اور منظور نہیں ہو پایا۔ اسی دوران راجیہ سبھا میں نائب چیئرمین کے انتخاب میں ہری ونش کو 17 اپریل کو مسلسل تیسری بار اس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اپوزیشن نے ان کے خلاف کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ ان کی رکنیت 9 اپریل کو ختم ہو گئی تھی، جس کے اگلے ہی دن صدر جمہوریہ نے انہیں دوبارہ نامزد کر دیا تھا۔ اس اجلاس کے دوران مالی سال 2026-27 کا عام بجٹ منظور کیا گیا اور کئی اہم بلوں کو بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے پہلے مرحلے میں اپوزیشن نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے خود کو کارروائی سے الگ کر لیا تھا۔ ان کے فیصلے پر ہی دوسرے مرحلے میں اس تحریک پر بحث ہوئی اور 11 مارچ کو اسے صوتی ووٹ سے مسترد کر دیا گیا۔ بجٹ اجلاس کا آغاز 28 جنوری کو صدر دروپدی مرمو کے مشترکہ خطاب سے ہوا اور یکم فروری کو وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ 2026-27 پیش کیا۔ اجلاس کا پہلا مرحلہ 13 فروری تک اور دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے 2 اپریل تک جاری رہا۔ بعد میں اجلاس کو بڑھاتے ہوئے 16 اپریل سے تین دن کے لیے دوبارہ بلایا گیا۔ اس دوران لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل، حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) بل اور یونین ٹیریٹری قوانین (ترمیمی) بل پیش کیے گئے، لیکن آئینی ترمیمی بل منظور نہ ہونے کے باعث دیگر دونوں بلوں کو آگے نہیں بڑھایا گیا۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے اجلاس ملتوی کرنے سے قبل بتایا کہ اس اجلاس میں 31 نشستیں ہوئیں اور کل 151 گھنٹے 42 منٹ تک کارروائی ہوئی۔ اس دوران 12 سرکاری بل پیش کیے گئے اور 9 بل منظور ہوئے، جن میں صنعتی تعلقات ضابطہ (ترمیمی) بل 2026، ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے تحفظ کا ترمیمی بل 2026، فنانس بل 2026، دیوالیہ پن اور عدم ادائیگی ضابطہ (ترمیمی) بل 2026، آندھرا پردیش تنظیم نو (ترمیمی) بل 2026، جن وشواس (ترامیم) بل 2026 اور مرکزی مسلح پولیس فورس بل 2026 شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئینی ترمیمی بل، یونین ٹیریٹری قوانین (ترمیمی) بل اور حد بندی بل پر 16 اور 17 اپریل کو 21 گھنٹے 27 منٹ تک بحث ہوئی، جس میں 131 اراکین نے حصہ لیا، تاہم آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہو سکا۔ اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کی صورتحال اور اس سے ہندوستان کو درپیش چیلنجز پر دونوں ایوانوں میں بیان دیا۔ اسی طرح ملک کو بائیں بازو کی شدت پسندی (نکسلی ازم) سے پاک کرنے کی کوششوں پر بھی بحث ہوئی، جس کا جواب وزیر داخلہ امیت شاہ نے دیا اور نکسلی تشدد کے خاتمے کا اعلان کیا۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان کے 270ویں اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے بتایا کہ اس دوران 157 گھنٹے 40 منٹ کام ہوا اور اجلاس کی کارکردگی 109.87 فیصد رہی۔ اسی اجلاس میں 59 اراکین کی مدت مکمل ہونے پر انہیں رخصت بھی کیا گیا۔ لوک سبھا کا بجٹ اجلاس، جو 28 جنوری کو شروع ہوا تھا، ہفتہ کے روز اختتام کو پہنچا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کارروائی ملتوی کرنے سے قبل بتایا کہ 18 ویں لوک سبھا کے اس ساتویں سیشن کا آغاز 28 جنوری کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ خطاب سے ہوا تھا۔ اس سیشن کے دوران کل 31 نشستیں ہوئیں اور 151 گھنٹے 42 منٹ تک کام کاج ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے یکم فروری کو مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا۔ اس بجٹ پر عام بحث تقریباً 13 گھنٹے تک جاری رہی، جس میں 63 اراکین نے حصہ لیا۔ سیشن کے دوران قانون سازی کے محاذ پر بھی نمایاں پیش رفت ہوئی، جہاں 12 سرکاری بل پیش کیے گئے اور 9 بل منظور کیے گئے۔ جن میں صنعتی تعلقات ضابطہ (ترمیمی) بل 2026، ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے تحفظ کا ترمیمی بل 2026، فنانس بل 2026، دیوالیہ پن و نادہندگی ضابطہ (ترمیمی) بل 2026، آندھرا پردیش تنظیم نو (ترمیمی) بل 2026، جن وشواس (دفعات میں ترمیم) بل 2026 اور مرکزی مسلح پولیس فورس (عمومی انتظام) بل 2026 شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئینی و قانونی امور کے حوالے سے 131ویں آئینی ترمیمی بل، یونین ٹیریٹری قانون (ترمیمی) بل اور حد بندی (ڈی لیمٹیشن) بل 2026 پر 16 اور 17 اپریل کو 21 گھنٹے 27 منٹ تک بحث ہوئی، جس میں 131 ارکان نے حصہ لیا، تاہم آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہو سکا۔ دیگر اہم پارلیمانی سرگرمیوں کے تحت 23 مارچ 2026 کو وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے تنازعہ اور ہندوستان کو درپیش چیلنجوں پر ایوان میں بیان دیا، جبکہ سیشن کے دوران 126 اسٹارڈ سوالات کے زبانی جوابات دیے گئے اور وقفہ صفر میں عوامی اہمیت کے 326 معاملات اٹھائے گئے۔












