صدام حسین فیضی
رام پور،سماج نیوز سروس : رام پور میں برسوں بعد ایک آل انڈیا مشاعرہ بنام یاد طاہر فراز منعقد ہوا۔اس مشاعرہ میں شاعروں نے جو علم و ادب، پیارومحبت اور ثقافت کاماحول بنانے کی کوشش کی اس سے کہیں زیادہ علمی و ادبی دنیا کو چند لوگوں کی سازش سے خسارہ بھی ہوا۔جس کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا۔تعلیم تربیت ویلفیئر سوسائٹی کی زیر اہتمام اس مشاعرہ میں مہمان خصوصی کے طور پر عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور رکن راجیہ سبھا سنجے سنگھ موجود رہے۔جب کہ خوشنودی افسران کے لئے جن منڈل بھر اور ضلع کے اعلی افسران کو اس مشاعرہ میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھاان میں سے ایک بھی افسر نے یہاں آنا مناسب نہیں سمجھا۔نظامت کا فریضہ ابرار کاشف نے بحسن و خوبی انجام دیا۔ نعیم خاں نے نعت پاک سے باقاعدہ اس مشاعرہ کا آغاز کیا۔بعد از اس مشاعرہ میں پاپولر میرٹھی، اظہر عنایتی، شہزادہ گلریز، چرن سنگھ بشر، ابرار کاشف،عقیل نعمانی، بلال سہارن پوری،منان فراز، چرن شرما،نکہت امروہوی , رک ادا شکیل غوث ڈاکٹر جاوید نسیمی،نعیم نجمی،ضیا عنایتی،افتخار ساحل نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔آخر میں کنوینر فیصل لالہ اور طارف نیازی نے مشترکہ طور پر سبھی کا شکریہ ادا کیا۔واضح رہے کہ اس مشاعرہ کے وہ انتظامی افسران جن کو مہمان بناکر مدعو کیا گیا نہ ہی وہ آسکے اور نہ ہی وہ شعراء کرام جن کے نام پر عوام کو اکھٹا کرنے کی گمراہ کن ادبی سازش کی گئ تھی وہ بھی شامل مشاعرہ نہیں ہوسکے ۔ان میں خصوصاََ وسیم بریلوی،جوہر کان پوری،شبینہ ادیب،طالب رام پوری،عزم شاکری قابلِ ذکر ہیں۔اس مشاعرہ کو عام آدمی پارٹی کامزاحیہ پروگرام مانا جارہاتھا۔ اس لئے افسران اور شعراء نے اس میں شریک ہونا اپنی شایان شان نہیں سمجھا جب کہ رام پور کے دو نابالغ شاعر مشاعرہ میں کلام پیش کرنے کے لئےبےچین تھے۔یہاں تک کہ ایک تو مراسلہ نگاری تک کرنے لگے تھے۔ مگر چوں کہ جن ہاتھوں میں مشاعرہ کرانے کی کمان تھی وہ نہیں چاہتے تھے کہ نابالغ شاعر مشاعرہ میں کلام پیش کرکے اپنے بالغ ہونے کا ثبوت پیش کریں۔یاد رکھیں یہ کوئ مشاعرہ نہیں صرف رام پور کے سینئر شعراء کی تذلیل کرنے کا ایک پروگرام تھاجس میں کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ کے مصداق عام آدمی پارٹی نے اپنی تنگ سوچ کا دائرہ وسیع کرکے ادبی گھرانوں سے اپنی مقبولیت کو ایک چادر میں لپیٹ کر کونے میں ڈال دیا۔اس مشاعرہ سے ایک بات یہ بھی سامنے آئ جن شاعروں کی برسوں سے طاہر فراز سے دوستی اور رقبت تھی ان کو بھی اس مشاعرہ سے دور رکھاگیا ان میں عبدالوہاب سخن،عبد اللہ خالد،حسان آفندی،ممتاز عرشی،محی الدین گلفام،مظہر رام پوری،آزر نعمانی،ظہیر رحمتی،عدنان ضیائی قابلِ ذکر ہیں۔خاص بات یہ بھی رہی کہ اس مشاعرہ کے دعوت نامے ہندی میں شائع ہوئےیہی اردو سے سچی محبت تھی جس کے لئے تعلیم تربیت پارٹی اردو کے نکلنے والے جنازہ پر نادم و پشیمان ہے۔












