نئی دہلی ،پریس ریلیز،ہمارا سماج:ممنوع دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزمات کے تحت گرفتار مشہور عالم دین مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ملزم کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کو بتایا کہ ملزم گذشتہ دس سال سے زائد عرصہ سے جیل میں مقید ہے اور اس دوران ہائی کورٹ نے دو مرتبہ مقدمہ کی سماعت جلد از جلد مکمل کیئے جانے کا حکم دیا لیکن اس کے باوجود سماعت مکمل نہیں ہوسکی نیز دہلی مقدمہ میں ملزم کو ملنے والی سات سال کی سزا وہ تین سال قبل ہی مکمل کرچکا ہے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا کے نٹراجن نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی سخت لفظوں میں مخالفت کی اور کہا کہ ملزم پر دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد کیئے گئے ہیں اور ملزم کی ضمانت پر رہا کرنے سے نسق امن میں خلل پڑ سکتا ہے کیونکہ عرض گذار ایک سزا یافتہ قیدی ہے۔استغاثہ نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی بجائے ٹرائل کورٹ کو مقدمہ کی سماعت جلداز جلد مکمل کیئے جانے کا حکم جاری کرنے کی چیف جسٹس سے گذارش کی۔اسی درمیان جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امدا د کمیٹی کی جانب سے ملزم کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے عدالت کو بتایاکہ ملزم کیخلاف گواہی دینے کے لیئے پیش کیئے گواہان میں سے 20/ گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوچکے ہیں اس کے باوجود ملزم کو جیل میں رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ملزم پر سنگین الزامات عائد کیئے گئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم کے مقدمہ کی سماعت جلد از جلد مکمل نا ہو۔ انہوں نے کہا کہ عدالت ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کی بجائے ٹرائل کو رٹ کو سخت ہدایت جاری کرنے جارہی ہے جس کے مطابق ملزم کے مقدمہ کی سماعت اگلے تین ما ہ میں مکمل کرنا ہوگا نیز اس دوران کسی بھی فریق کو عدالتی کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ جس دن مقدمہ کی سماعت ہوگی اس دن صرف مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی سماعت کریگی، اس دن کسی دوسرے مقدمہ کی سماعت نہیں ہوگی، چیف جسٹس آف انڈیا نے اڑیسہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ہدایت دی وہ مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج کے پاس سے دیگر مقدمات کو کسی دوسری عدالت میں منتقل کردے تاکہ سیشن عدالت صرف مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی تیزی سے سماعت کرسکے۔چیف جسٹس آف انڈیا نے مزید ہدایت جاری کی کہ جوگواہ کسی وجہ سے کٹک سیشن عدالت پہنچ نہیں سکتے ہیں ایسے گواہان کی گواہی بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ کی ریکارڈ کی جائے نیز گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی سیشن جج مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی سماعت کرے اور پھر وہ سماعت مکمل ہونے کے بعد چھٹیاں لے سکتے ہیں۔چیف جسٹس آف انڈیا اور جسٹس دیو مالائی باگچی نے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کی گذارش پر کٹک سیشن عدالت کو متذکرہ ہدایت جاری کی ہیں نیز مقررہ مدت میں ٹرائل مکمل نہ ہونے کی صورت میں مولانا عبدالرحمن کٹکی ڈائرکٹ اڑیسہ ہائی کورٹ میں ضمانت عرضداشت داخل کرسکتے ہیں اس کی سپریم کورٹ نے اجازت دی ہے۔ گذشتہ تین ماہ کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت عرضداشت پر 6/ مرتبہ سماعت۔آج کی عدالتی کارروائی پر صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولاناحلیم اللہ قاسمی نے ممبئی میں کہا کہ ہمیں بہت امید تھی کہ اس مرتبہ مولانا عبدالرحمن کٹکی کو سپریم کورٹ آف انڈیا سے ضمانت مل جائے اور ہم نے ملزم اور اس کے اہل خانہ کی درخواست پر کریمنل معاملات کی مشہور وکیل نتیا راما کرشنن کی تقرری بھی کی تھی لیکن چیف جسٹس آف انڈیا نے ضمانت پر رہائی کی بجائے ٹرائل کورٹ کو سخت ہدایت دی ہے۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ سیشن عدالت کٹک چیف جسٹس آف انڈیا کی حکم کی پاسداری کرتے ہوئے مقرر کردہ وقت میں مقدمہ کی بقیہ سماعت مکمل کرے گی نیز دفاعی وکلاء کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عدالت کا مکمل تعاون کریں اور جلد از جلد مقدمہ کی سماعت مکمل ہوسکے اس کے لیئے کوشش بھی کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اگلے تین ماہ میں مقدمہ کی سماعت مکمل کرلی جائے گی اور مولانا عبدالرحمن کٹکی کو انصاف حاصل ہوگا۔واضح رہے کہ مولانا عبدالرحمن کٹکی کے خلاف دہلی، جمشید پور اور کٹک میں الگ الگ مقدمات قائم کیئے گئے تھے جس میں سے دہلی مقدمہ میں ساڑھے سات سال کی سزا ہوئی جبکہ جمشید پور مقدمہ سے مولانا عبدالرحمن کٹکی بری ہوچکے ہیں۔ مولانا عبدالرحمن کٹکی پرممنو ع تنظیم القاعدہ کے رکن ہونے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائی انجام دینے کی سازش رچنے اور غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جاکر ٹریننگ حاصل کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔گذشتہ دس سالوں سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے۔












