چنڈی گڑھ، (یو این آئی) ہریانہ حکومت نے درج فہرست ذات (ایس سی) کے ملازمین کے لیے ترقی میں ریزرویشن سے متعلق موجودہ ہدایات میں ترمیم کی ہے۔ نئے ضوابط کے مطابق، اگر کسی پروموشنل کیڈر میں درج فہرست ذات کا تناسب 20 فیصد سے کم ہے، تو خالی آسامیوں پر پہلے اہل ایس سی ملازمین کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک نمائندگی کی یہ کمی پوری نہیں ہو جاتی۔ دوسری طرف، جن محکموں میں درج فہرست ذات کی نمائندگی پہلے سے 20 فیصد یا اس سے زیادہ ہے، وہاں ترقیاں عام قوانین کے تحت کی جائیں گی۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ 20 فیصد نمائندگی کے حساب کتاب میں ان تمام ملازمین کو شامل کیا جائے گا جنہوں نے سنیئرٹی اور میرٹ کی بنیاد پر ترقی حاصل کی ہے، خواہ انہوں نے ریزرویشن کا فائدہ لیا ہو یا انہیں میرٹ کی بنیاد پر ترقی ملی ہو۔ دوسری اور ہریانہ کی آبپاشی اور آبی وسائل کی وزیر شروتی چودھری نے آئندہ مانسون کے پیش نظر سیلاب بندوبست کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات وقت رہتے مکمل کیے جائیں۔میٹنگ میں کہا گیا کہ سیلاب سے متعلق کاموں کے لیے اسی ہفتے ٹینڈر جاری کیے جائیں تاکہ کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔ تمام کاموں کی ادائیگی متعلقہ افسران اور سرپنچوں کی تصدیق کے بعد ہی کی جائے گی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔وزیر موصوفہ نے سلٹ (گاد) نکالنے کے کاموں کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی۔ یہ ٹیم مختلف علاقوں کا معائنہ کر کے رپورٹ دے گی۔ انہوں نے پائپ، پمپ اور ریت کی بوریوں جیسے سامان کی خریداری میں معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کی وارننگ دی۔افسران کو مانسون سے پہلے نہروں، ڈرینوں اور پانی کی نکاسی کے نظام کی صفائی اور مرمت کو ترجیحاً مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔












