میرٹھ،سماج نیوز سروس: اگر ہم نے غالبؔ کو سمجھ لیا تو میرؔ کو بھی سمجھیں گے اور حالیؔ کو بھی ۔ اگر غالبؔ کو نہ سمجھا تو میرؔ کو بھی نہیں سمجھ پائیں گے۔ اس وقت بھی غالبؔ کے سات سو سے زائد ایسے اشعار ہیں جن کو ہم ضمناً کہہ سکتے ہیں اور تقریباًاٹھا رہ سو کتابیں غالبؔ پر موجود ہیں۔ غالبؔ کی ترقی پسندی پر کوئی خاص کتاب نہیں ہے۔ غالبؔ کا بہت سا کلام غائب ہے، اس پر تحقیق نہیں ہوئی۔ہم ابھی تک یہ تحقیق نہیں کر سکے کہ غالبؔ انگریزوں کا دوست تھا یا نہیںیہ الفاظ تھے معروف محقق و ناقد ڈاکٹر تقی عابدی[کناڈا] کے جو آیو سا اور شعبۂ اردو کے زیر اہتمام منعقد ’’محققین و ناقدین غالبؔ‘‘ موضوع پر اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوںنے مزید کہا کہہ ہمارا پہلا ادب کا ترقی پسند شاعر غالبؔ ہے۔ غالبؔ غزلوں میں انسانی زندگی کو پیش کرتے ہیں۔ غالبؔ کا فارسی کلام بارہ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے۔انہوں نے دس سال کی عمر سے شاعری شروع کردی تھی۔ غالبؔ بچپن میں نظیر اکبر آ بادی کے شاگرد تھے، اس پر بھی تحقیق ہونی چاہئے۔ غالبؔ استادوں کا استاد ہے۔اس سے قبل پرو گرام کا آغازمحمد شاکر مطلوب نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض بین الا قوامی شہرت یافتہ محقق و ناقد ڈاکٹر تقی عابدی[کناڈا] نے انجام دیے۔ خصوصی مقرر کے بطور معروف ادیب وناقدپروفیسر صغیر افراہیم نے شر کت فرمائی۔مقررین کے بطور لکھنؤ سے ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین اور ڈاکٹر مجیب شہزر، علی گڑھ موجود رہے۔ مقالہ نگار کے بطورفر حت اختر، میرٹھ،عرفان عارف، جموں اور عادل فراز علی گڑھ نے شر کت فرمائی۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی اورنظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی اور شکریے کی رسم محمد عابدنے انجام دی۔ اس موقع پر معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ غالبؔ پر بہت ریسرچ ہو چکی ہے مگر ابھی بھی بہت سے گو شوں پر تحقیق ہونا باقی ہے۔ غالبؔ کے خطوط کا ادب میں بڑا مقام ہے۔ غالبؔ کی یہ خوش نصیبی ہے جو غالبؔ کو حالیؔ جیسا ناقد ملا اور یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم غالبؔ جیسے بڑے شاعر پر پروگرام کررہے ہیں۔ غالبؔ کے محققین اور ناقدین پر بات ہونا بڑا ضروری ہے۔ غالبؔ انیسویں صدی کا بڑا شاعر تھا۔ ڈاکٹر مجیب شہزر نے کہا کہ پروفیسر صغیر افراہیم غالبؔ کے ایک منفرد محقق ہیں۔ آپ نے غالبؔ کی تحقیق میں ایسا اسلوب اختیار کیا کہ غالبؔ کو سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ غالبؔ شناسی پر محققین نے اپنی کوشش کے رنگ بھرے ہیں۔ پروفیسر صغیر افراہیم نے باندہ کی اچھی تصویر کشی کی ہے اور دیوان محمد علی کو لکھے گئے پینتیس خطوط پر صغیر افراہیم نے خاصی تحقیق کی ہے۔ صغیر افراہیم کی تحقیق میں سادہ زبان پیش کی گئی ہے۔












