لندن، (یو این آئی) انگلینڈ کے سابق کپتان کیون پیٹرسن نے آئی پی ایل کے معاملے میں جیکب بیتھل کا دفاع کرتے ہوئے ایلسٹر کُک کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پرانی چپقلش کو ایک بار پھر تازہ کر دیا۔انگلینڈ کے نوجوان بلے باز جیکب بیتھل، جنہوں نے جنوری میں ایشز کے آخری ٹیسٹ میں شاندار سنچری اسکور بنائی تھی، اس سیزن میں رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کے لیے ابھی تک کوئی میچ نہیں کھیل سکے ہیں۔پیٹرسن کا خیال ہے کہ میچ نہ کھیلنے کے باوجود آئی پی ایل جیسے بڑے ماحول کا حصہ رہنا کھلاڑی کے لیے فائدہ مند ہے، جبکہ کک نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ایلسٹر کُک نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا تھا کہ بیتھل اس وقت کچھ نہیں کر رہے اور بہتر ہوگا کہ وہ واپس آ کر واروکشائر کے لیے اوپننگ کریں تاکہ انگلینڈ کی تیاری میں مدد مل سکے۔ اس پر پیٹرسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ کُک کو آئی پی ایل کے ماحول کا کوئی اندازہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں اور کوچز کے درمیان رہ کر سیکھنا ایک قیمتی تجربہ ہے، اس لیے بیتھل کو ہندوستان میں ہی رہنا چاہیے کیونکہ وہ کھیل نہ کر بھی بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔پیٹرسن اور کُک کے درمیان اختلافات 2013-14 کی ایشز سیریز کے بعد سے چلے آ رہے ہیں، جب کُک کی کپتانی میں پیٹرسن کے بین الاقوامی کیریئر کا اختتام ہوا تھا۔پیٹرسن کا ماننا ہے کہ آئی پی ایل جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں شرکت کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے کاؤنٹی کرکٹ سے زیادہ فائدہ مند ہے، جہاں وہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے، انہیں قریب سے دیکھنے اور اعلیٰ معیار کی کوچنگ سے سیکھنے کا موقع پاتے ہیں۔دوسری جانب بیتھل نے بھی اس بات پر زور دیا کہ آئی پی ایل میں رہنا ان کے لیے درست فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کا معیار اور ماحول انہیں بہتر کھلاڑی بنا رہا ہے، اور ہر نیٹ سیشن میں وہ خود کو مزید نکھارتے محسوس کرتے ہیں۔واضح رہے کہ بیتھل کو نیوزی لینڈ کے خلاف لارڈز میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے لیے انگلینڈ ٹیم میں شامل کیے جانے کا قوی امکان ہے، جو آئی پی ایل فائنل کے چار دن بعد کھیلا جائے گا۔












