تہران:امریکی انتظامیہ میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ایرانی نظام کے اندر اور فیصلہ سازی کے مراکز میں واضح تقسیم موجود ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ دنوں میں کئی بار اس جانب اشارہ کر چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار اعلانیہ کچھ اور کہتے ہیں جبکہ پسِ پردہ کچھ اور مؤقف اختیار کرتے ہیں۔امریکی حکام نے ان اختلافات کو پہلی بار تقریباً دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد محسوس کیا، جب یہ بات سامنے آئی کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل احمد وحیدی اور ان کے نائبین نے ایرانی وفدجس کی قیادت ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھےکی جانب سے زیرِ بحث لائے گئے کئی نکات کو مسترد کر دیا۔اسی طرح ایک ہفتہ قبل بھی یہ اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا، مگر پاسدارانِ انقلاب نے مداخلت کرتے ہوئے واضح کیا کہ آبنائے بند ہی رہے گی، البتہ بعض وہ ملک جو دشمنی نہیں رکھتےانھیں استثنی دیا جا سکتا ہے اور وہ بھی ان کی اجازت سے۔گزشتہ دو دنوں کے دوران ایران نے اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنا وفد بھیجنے سے بھی گریز کیا، اس کی وجہ امریکی پابندیوں کے خاتمے کو قرار دیا۔تاہم یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اندرونی تقسیم کسی حد تک مارچ میں اسرائیل کی جانب سے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سابق سیکرٹری علی لاریجانی کے قتل سے بھی جڑی ہوئی ہے، کیونکہ وہ فیصلہ سازی کے عمل کو یکجا رکھنے کے لیے درکار اثر و رسوخ اور سیاسی وزن رکھتے تھے۔ان کے جانشین محمد باقر ذو القدر جن کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب، سویلین قیادت اور سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، اس کردار میں مؤثر دکھائی نہیں دیتے، جیسا کہ ایک امریکی عہدیدار نے ویب سائٹ آکسیوس کو بتایا۔اس صورتِ حال نے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی کو فیصلہ سازی پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کا موقع دیا۔ تو آخر یہ شخص کون ہے، جس نے اب تک کم از کم امریکہ-ایران مذاکرات کے دوسرے دور کو روک دیا ہے؟
67 سالہ احمد وحیدی نے اپنا منصب اس وقت سنبھالا ،جب 28 فروری سے شروع ہونے والی اسرائیلی و امریکی کارروائیوں میں کئی عسکری و سیاسی رہنما ہلاک ہوئے، جن میں ان کے پیشرو محمد باکپور بھی شامل تھے۔تاہم اس دن کے بعد سے جنرل وحیدی نے نہ کوئی عوامی بیان دیا ہے، نہ کسی تقریب میں نظر آئے ہیں، جس سے ان کی پراسرار غیر موجودگی مزید سوالات کو جنم دے رہی ہے۔وحیدی 1979 میں پاسدارانِ انقلاب میں شامل ہوئے، 1981 میں انٹیلیجنس کے نائب سربراہ بنے، 1988 میں فیلق القدس کے پہلے کمانڈر مقرر ہوئے، جو اس فورس کا بیرونی بازو ہے۔اس دوران انہوں نے خطے میں اتحادی نیٹ ورک قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس میں لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی، غزہ میں حماس اور عراق و شام کی ملیشیائیں شامل ہیں۔بعد ازاں وہ 2009 سے 2013 تک محمود احمدی نژاد کے دور میں وزیر دفاع رہے، پھر 2021 سے 2024 تک ابراہیم رئیسی کے دور میں وزیر داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیں، جو نظام کے لیے ایک نہایت حساس دور تھا۔وزارتِ داخلہ کے دوران انہوں نے بڑی تعداد میں فوجی پس منظر رکھنے والے گورنرز اور پولیس افسران تعینات کیے، جس سے ریاستی ڈھانچے میں پاسدارانِ انقلاب کا اثر مزید مضبوط ہوا۔ان پر 1994 میں بیونس آئرس میں یہودی مرکز "آمیا” پر حملے میں مبینہ ملوث ہونے کے الزام میں ارجنٹینا اور انٹرپول کی جانب سے وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ یورپی یونین نے 2008 میں ان پر پابندیاں عائد کیں۔فروری 2026 میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد ان کا کردار مزید طاقتور ہو گیا، اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ جرنیلوں کا اثر و رسوخ بھی بڑھا ہے۔اس کے باوجود بعض ماہرین اس تاثر کو سادہ قرار دیتے ہیں کہ ایران میں تمام فیصلے ایک ہی شخص کر رہا ہے۔
ایرانی تجزیہ کار علی واعظ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کوئی یکساں ادارہ نہیں، بلکہ اس کے اندر مختلف آراء اور طاقت کے مراکز موجود ہیں، جبکہ اہم فیصلے قومی سلامتی کونسل میں کیے جاتے ہیں جہاں وحیدی کا اثر ضرور ہے۔واعظ کے مطابق موجودہ قیادت اندرونی اختلافات سے نہیں بلکہ بحران کے باعث وقتی طور پر متحد ہے، سب خود کو ایک ہی کشتی میں سوار سمجھتے ہیں۔ایرانی نظام اس وقت اس کشمکش کو اپنی بقا کی جنگ قرار دے رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ فیصلہ سازوں کی اکثریت کا تعلق پاسدارانِ انقلاب سے ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ایرانی قیادت اس آخری موقع سے پہلے حالات کو سنبھال پائے گی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا ہے یا یہ کشتی مزید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی؟












