میرٹھ،سماج نیوز سروس: آج یہاں شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ میںصدر شعبۂ اردو اور معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری کی صدارت میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی ۔جس میں عنقریب ہو رہی مردم شماری کے تعلق سے چند اہم تجاویز سامنے آئیں۔ مائنارٹی ایجو کیشنل ایسوسی ایشن کے صدر آفاق احمد خاں نے کہا کہ کمیٹی کے لوگ محلے میںجاکر کارنر میٹنگ کریں اور عوام کو مردم شماری کے تعلق سے بیدار کریں،نیز اس کے فائدے اور اس کی اہمیت عوام کے سامنے رکھیں۔ ساتھ ہی ماردی زبان کے تعلق سے بھی عوام میں بیداری لائیں اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مردم شماری فارم کے مادری زبان والے خانے میں’اردو‘ زبان کا اندراج کرائیں۔ سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی،میرٹھ کے صدر ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی نے کہا کہ ہمارے سبھی ممبرا ن سب سے پہلے مردم شماری کے دونوں فیز کے فارمیٹ حاصل کریں اور اس کو باریک بینی سے دیکھیں۔ پھرعوام کو اس کے تعلق سے معلومات فراہم کرائیں۔یہ طریقہ زیادہ مناسب ہے اور غلطی کے امکان بھی کم ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ انسان علم کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ معاشرے میں تعلیم ہی ترقی کی ضامن ہے۔اسی وجہ سے سر سید نے بھی تعلیم کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دی اورخاص کرجدید تعلیم کو۔آج ہم یہاںجو سر سید کے نام پر اکٹھا ہوئے ہیںہم سبھی کا فرض ہے کہ ہم ان کے مشن یعنی تعلیم کو گھر گھر تک پہنچائیں بغیر کسی تفریق یا مذہب و ملت کے۔ہم ایسے اسکول،کالجز، یونیورسٹیز، مدارس و مکاتب کے ذمہ داران سے رابطہ کریںجن کے یہاں ذہین طالب علم ہیں اور جوآگے بڑھ کر کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے ان کو آگے بڑھنے میں پریشانی ہے،ہما ری سوسائٹی ایسے تمام طلبہ و طالبات کو منتخب کرکے مدد فراہم کرے تو یقینا ہم اس مشن میں ضرور کامیاب ہو ں گے۔ساتھ ہی ایسے اساتذہ کو بھی اعزازات سے نوازا جائے جو اپنے پیشے کے تعلق سے ایماندارانہ فرائض انجام دے رہے ہوں۔ ڈاکٹر آصف علی نے کہاکہ یہ شعبۂ اردو کی بہترین کوشش ہے کہ اس عظیم ہستی کے مشن کو آگے بڑھا نے میں لگا ہوا ہے جس نے تاریک راہوںکو علم کی روشنی سے منور کردیا۔ سماج کے نادار، مفلس اور غریب طلبہ و طالبات کی مدد بہت اچھا قدم ہے۔دوسرے مردم شماری کے تعلق سے عوام میں بیداری پیدا کرنا بھی کسی کارِ خیر سے کم نہیں۔ اردو کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔مردم شماری کا فارم بھرتے وقت ضرور اس بات کا خیال رکھیں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیں کہ ما دری زبان کے خانے میں اپنی مادری زبان’’ اردو‘‘ ہی بھریں۔ میٹنگ کے آخر میں اظہار خیال کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ مفکر قوم،معروف دانشور اور ماہر تعلیم سرسید احمد خاں نے جہالت کے اندھیروں کو دور کر کے علم کی شمع کو جو روشن کیا تھا آج اس کی روشی پو رے عالم کو منور کرہی ہے۔آج کی اس میٹنگ کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس کے دائرے کو مزید بڑھائیں اور سماج کو جب جب ہماری ضرورت پڑے ہم ان کے کام آئیں،جہاں ان کو ہماری رہنمائی کی ضرورت ہے ان کاموں میں ان کی رہنمائی کریں۔جلد ہی مردم شماری بھی ہونے والی ہے تو ہمارا فریضہ ہے کہ اس موقع پر زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچیں اور مادری زبان کے تعلق سے ان میں بیداری پیدا کریں۔پمفلیٹ بنوائے اور ہر جمعے کو مساجد میں تقسیم کرائے جائیں۔ سر سید ایجو کیشنل سوسائٹی کے فنڈ کو مزید بڑھانے کے لیے ممبر سازی بڑھائیں۔ میٹنگ میں ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر الکا وششٹھ،ڈاکٹر ارشاد علی، سیدہ مریم الٰہی، فرحت خاتون وغیرہ موجود رہیں۔












