نئی دہلی ،(یو این آئی) مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر ایل پی جی سلنڈر کی قلت کو دیکھتے ہوئے حکومت پی این جی کنکشن بڑھانے میں مصروف ہے اور اب تک تقریباً 5.96 لاکھ پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) کنکشن چالو کیے جا چکے ہیں، جبکہ اضافی 2.68 لاکھ کنکشنز کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کر لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی تقریباً 6.66 لاکھ نئے صارفین نے کنکشن کے لیے رجسٹریشن کرایا ہے۔پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے مغربی ایشیا کے بحران کے بارے میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ خلیجی خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر، حکومت توانائی کی فراہمی، بحری آپریشنز اور خطے میں موجود ہندوستانی شہریوں کی امداد کو یقینی بنانے کے لیے فعال طور پر مربوط اقدامات کر رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باوجود، حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ گھریلو ایل پی جی، گھریلو پی این جی اور سی این جی (ٹرانسپورٹ) کی 100 فیصد فراہمی جاری رہے۔کمرشل ایل پی جی کے لیے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ادویات، اسٹیل، آٹوموبائل، بیج، زراعت وغیرہ کے شعبوں کو بھی فوقیت دی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی مائیگرینٹ مزدوروں کے لیے 5 کلو گرام ایف ٹی ایل کی سپلائی کو 2 اور 3 مارچ کی اوسط روزانہ سپلائی کی بنیاد پر دوگنا کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے مانگ اورسپلائی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پہلے ہی کئی اقدامات نافذ کر دیے ہیں، جن میں ریفائنریوں کی پیداوار بڑھانا، شہری علاقوں میں گیس بکنگ کا وقفہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک کرنا، اور مختلف شعبوں کو سپلائی میں ترجیح دینا شامل ہے۔ایل پی جی کی طلب کا دباؤ کم کرنے کے لیے مٹی کے تیل اور کوئلے جیسے متبادل ایندھن دستیاب کرائے گئے ہیں۔ وزارت کوئلہ نے کول انڈیا اور سنگرینی کولیریز کو ہدایت دی ہے کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے صارفین میں تقسیم کے لیے ریاستوں کو اضافی کوئلہ فراہم کریں۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے نئے پی این جی کنکشن فراہم کرنے میں سہولت دیں۔حکومت نے بتایا ہے کہ 9 اپریل سے اب تک ممبئی، کوچی، وشاکھاپٹنم، چنئی، متھرا اور گجرات کی ریفائنریوں کے ذریعے کیمیکل، ادویات (فارما) اور پینٹ کی صنعتوں کو 10,000 ٹن سے زیادہ پروپیلین اور 1200 میٹرک ٹن سے زیادہ بیوٹائل ایکریلیٹ فروخت کیا گیا ہے۔ ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کو روکنے کے لیے ملک بھر میں مہم جاری ہے۔ کل پورے ملک میں 1700 سے زائد چھاپے مارے گئے۔ سرکاری شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اچانک معائنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے اور 342 ایل پی جی تقسیم کاروں پر جرمانہ عائد کیا ہے، جبکہ کل تک 73 ایل پی جی تقسیم کاروں کو معطل کیا گیا ہے۔












