پونے، (یو این آئی) لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت مقدمے کی سماعت کے دوران پونے کی خصوصی ایم پی/ایم ایل اے عدالت میں شکایت کنندہ ساٹھیاکی ساورکر نے اعتراف کیا کہ آزادی کے مجاہد ونایک دامودر ساورکر کو مہاتما گاندھی قتل کیس میں ملزم نامزد کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں بری کر دیا گیا تھا۔یہ سماعت خصوصی جج امول شری رام شندے کی عدالت میں جاری ہے۔ جرح کے دوران راہل گاندھی کے وکیل ایڈوکیٹ ملند دتاترے پوار نے ساٹھیاکی ساورکر سے ساورکر سے متعلق مختلف تاریخی اور نظریاتی امور پر سوالات کیے۔سماعت کے دوران ساٹھیاکی ساورکر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ونایک دامودر ساورکر نے اپنی قید کے دوران برطانوی حکومت کو پانچ مرتبہ رحم کی درخواستیں پیش کی تھیں۔ مزید برآں ہندوتوا، دو قومی نظریہ اور گائے سے متعلق ان کے متنازع بیانات-جس میں گائے کو ایک مفید جانور قرار دیا گیا نہ کہ مقدس جانور-پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔دفاع کی جانب سے سینئر صحافی نیرنجن تکلے کی تنقید کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ "گاندھی ایمان ہیں جبکہ ساورکر توہم پرستی ہیں”، اسی طرح ساورکر کے کردار پر سوالات اٹھانے والی دیگر آراء بھی زیر بحث آئیں۔ مزید برآں سینئر صحافی سریش دوادشیوار کے اس بیان کا ذکر کیا گیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ساورکر نے برطانوی دور میں فوجی بھرتی کی حوصلہ افزائی کی تھی۔












