کانپور:۔ دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء کانپور کی جانب سے اساتذہ مکاتب، حفاظ، ٹیوشن پڑھانے والے و دیگر جملہ معلمین کا مشاورتی اجتماع جامع مسجد اشرف آباد جاجمؤ میں منعقدکی ہوا جس میں بچوں کی نفسیات، مسجد و مکتب کے ماحول کے فوائد، اجتماعی تعلیم کے فوائد، موجودہ حالات میں معلمین کی اہمیت اور ان کا کردار نیز کامیاب استاذ کی صفات سے متعلق گفتگو کی گئی۔
اٹاوہ سے تشریف لائے مہمان خصوصی مولانا سید محمد سعد قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم پہلے اپنے آپ کو معلم سمجھیں، ہم بائی چانس نہیں بائی چوائس معلم ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو طلباء اور خود معلم کو فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔معلم کو اپنے موضوع میں کمال حاصل ہونا چاہیے،علم میں کمال نہیں ہوگا تو طلباء مطمئن نہیں ہوں گے۔مضمون کی بنیادی کتابیں ہمیشہ اپنے مطالعہ میں رکھیں،علم کو حاصل کرنے میں کسی طرح کی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ جاننے والوں سے رجوع کریں، فصاحت و بلاغت یعنی بچوں سے ان کے ذہنی سطح کے مطابق معاملہ کریں۔حضورؐ ٹھہر ٹھہر کر باتیں کرتے، کوئی یاد کرنا چاہتا تو یاد کرلیتا، ایک کامیاب استاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ فصاحت و بلاغت حاصل کرے۔ دوران تدریس وہ لہجہ استعمال کریں جو پڑھنے والے سمجھتے ہیں۔ علاقہ کی زبان، انداز اور گفتگو میں چاشنی کو اختیار کریں۔ بچوں سے کسی بھی طرح کی بدتمیزی سے بات نہیں ہونی چاہیے۔ پڑھانے کے دوران چیزوں کو دوہرانے کی ضرورت ہو تو دوہرانا بھی چاہیے۔ مولانا نے معلمین سے سوال و جواب کے ذریعہ طریق? تعلیم پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔
دینی تعلیمی بورڈ وسط یوپی کے نگراں مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش نے اجتماع کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معلمین پر قوموں کی ترقی اور تنزلی کا دارومدار ہوتا ہے۔ مکاتب دینیہ ہمارے ایمان کے تحفظ و بقا کی بنیاد ہیں، اس میں پڑھانے والے معلمین انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، تمام معلمین کو ایک لڑی میں پرونے اور ایک ٹارگیٹ سیٹ کرکے قوم کے بچوں کی تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے اکابر جمعیۃ نے یہ کوشش کی ہے کہ الگ الگ طور پر مکاتب سے جڑے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔ اسی کے تحت پانچ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت آج یہ اجتماع منعقد ہورہا ہے۔ مولانا نے کہا کہ مدارس فرض کفایہ اور مکاتب فرض عین کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ مولانا نے پڑھانے والوں کے ساتھ ذمہ داران کا کیا معاملہ ہونا چاہئے، اس پر بھی گفتگو فرمائی۔
رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند زون 1کے صدر مفتی اقبال احمد قاسمی نے اپنے بیان میں اورنگزیب اور شاہجہاں کا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بچوں کو پڑھانے کے لئے بچے مانگے۔ اس سے معلوم ہوا کہ معلم کا کام ایک شاہانہ مشغلہ بھی ہے۔ جب تک معلم اپنی قدر و منزلت اور اہمیت اتنی نہ بیٹھا لیں کہ آپ کی جوتیوں کو سر پراٹھانا اپنی سعادت نہ سمجھ لیں تب تک اپنے طلباء اور بچوں سے کام نہ کرائیں۔ معلمین اپنے کوباوزن اور با کردار بنائیں۔معلم اچھا ہوتا ہے اس کی زندگی بھر تعریف ہوتی ہے۔ اپنے کو بھی احساس کمتری سے نکالیں، مکاتب سے ہی مدرسوں کو پڑھنے والے طلباء ملتے ہیں۔مکاتب بنیاد کا کام کر رہے ہوتے ہیں اور عمارت تو نظر آتی ہے لیکن بنیاد نظر نہیں آتی۔ ہمارے بزرگوں نے قاعدہ بغدادی پڑھانے والے کو احادیث پڑھانے والے سے زیادہ اہمیت دیا ہے۔معلمین اپنے اندرمعلم کے اوصاف پیدا کریں، معلمین خودکی اہمیت کو پہچانیں گے تو اپنے کو کمتر نہیں سمجھیں گے۔ جب اہمیت سمجھیں گے توعلم دین کی برکت سے بہت سے کام آسانی سے ہوجائیں گے۔اس سے مستقبل میں جو قوم تیار ہوگی وہ کارآمد ہوگی۔بچوں کے ذریعہ سے دین کی دعوت گھر تک پہنچا کر گھروں کی اصلاح کر سکتے ہیں۔جب اپنے فرائض کو انجام دیں گے تو کہیں نہ کہیں معلمین کے مقام و مرتبہ کے قریب پہنچنے میں شمار ہوں گے۔
دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء شہر کانپور کے صدر مفتی عبد الرشید قاسمی نے بچوں کی نفسیات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بچہ پچپن سے ہی فطری طور پر دین پر ہوتا ہے۔بچوں کی تربیت میں ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے، والدین کو بھی چاہئے کہ ایسا کو ئی عمل نہ کریں کہ بچے پر غلط اثر پڑے۔ٹیم ورک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تربیت میں ماں،باپ اور استاد تینوں کا کردار ہوتا ہے۔ اس میں کہیں ایک جگہ گڑبڑی ہوگئی تو ہم جیسا بچہ چاہ رہے ہیں ویسا بچہ نہیں ملے گا۔ بچے ماں کے پیٹ سے ہی سیکھنا شروع کر دیتے ہیں اوریہ بات تجربات سے ثابت بھی ہو چکی ہے۔ بچوں کوسماجی، تعلیمی اور جنسی اعتبار سے تربیت دیں۔ گنج شکر رحمتہ اللہ کا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ بچوں کو اچھے واقعات بتائیں۔ اس طرح تربیت دیں کہ ان میں نہ احساس کمتری آئے اورنہ ہی برتری آئے۔ ان کے عزت نفس کا خیال رکھیں۔
جمعیۃ علماء شہر کانپور کے نائب صدر مولانا محمد اکرم جامعی نے کہا کہ سارے مدارس کی بنیاد صفہ کا مدرسہ ہے۔ اجتماعی تعلیم کے لئے جگہ کا منتخب ہونا، طلباء، معلم کے اپنے فوائد ہوتے ہیں، اس کے نتائج بہت اچھے ثابت ہوتے ہیں انفرادی تعلیم کے مقابلے اجتماعی تعلیم کے اپنے فوائد ہوتے ہیں۔ انہوں نے مولانا مبین الحق صاحب کی مکتب کے لئے کی گئی محنت کے بارے میں بتایا۔اجتماعی تعلیم کیلئے جگہ کی بڑی برکات ہوتی ہیں۔
اجتماع میں معلمین کے سوال و جواب کا سیشن بھی چلا، جس میں معلمین نے اپنے اقتصادی، تعلیمی و سماجی مسائل سے روبرو کرائے، اس پرمولانا محمد سعد قاسمی، مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی، مفتی عبد الرشید قاسمی نے جوابات دئے۔ مولانا نورالدین احمد قاسمی کی دعاء پر اجتماع اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر شہر کے 250سے زائد معلمین اور ٹیوشن پڑھانے والے حفاظ و علماء نے اجتماع میں شرکت کی۔












