نئی دہلی، (یواین آئی) انڈین کشتی فیڈریشن (ڈبلیو ایف آئی) نے ہفتہ کو ونیش پھوگاٹ کو ایک شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، جس میں ان پر متعدد ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس تجربہ کار خاتون پہلوان پر بد نظمی اور اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں اور انہیں 26 جون 2026 تک گھریلو مقابلوں میں شرکت کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے۔31 سالہ پہلوان یوڈبلیو ڈبلیو کے اینٹی ڈوپنگ قواعد کے تحت ریٹائرمنٹ سے واپسی کرنے والے ایتھلیٹس کے لیے ضروری چھ ماہ کی نوٹس مدت پوری کرنے میں ناکام رہیں۔ ڈبلیو ایف آئی کے 15 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز میں، ریسلنگ باڈی نے دعویٰ کیا کہ ونیش کے طرزِ عمل سے قومی سطح پر شرمندگی ہوئی اور ہندستانی کشتی کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ونیش پھوگاٹ، جو پیروس اولمپک میں تمغہ جیتنے سے محروم رہ گئی تھیں، پر ڈبلیو ایف آئی کے آئین، یو ڈبلیو ڈبلیو بین الاقوامی قوانین اور اینٹی ڈوپنگ ضوابط کے التزامات کی خلاف ورزی کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ انہیں نوٹس کا جواب دینے کے لیے 14 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ڈبلیو ایف آئی نے نوٹس میں کہا، ‘ڈبلیو ایف آئی کے ساتھ ایک پہلوان کے طور پر اور آپ کے رجسٹریشن اور بین الاقوامی مقابلوں میں ہندستانی پرچم کے تحت آپ کی شرکت کی بنیاد پر – جس میں 2024 میں پیروس میں منعقدہ XXXIII اولمپیاڈ کے کھیل بھی شامل ہیں – آپ ڈبلیو ایف آئی کے نظم و ضبط کے ماتحت ہیں اور ڈبلیو ایف آئی اور یو ڈبلیو ڈبلیو کے ذریعہ وقتاً فوقتاً بنائے گئے قواعد و ضوابط کی پابند ہیں۔اس میں مزید کہا گیا، ‘ڈبلیو ایف آئی کے پاس یہ ماننے کی وجوہات ہیں کہ آپ نے ایسے کام کیے ہیں یا کرنے سے گریز کیا ہے جو ڈبلیو ایف آئی، ہندوستانی ریسلنگ کمیونٹی اور قوم کے نظم و ضبط، شبیہ، ساکھ اور مفادات کے لیے سنگین طور پر نقصان دہ ہیں اورجو ڈبلیو ایف آئی کے چارٹر، یو ڈبلیو ڈبلیو انٹرنیشنل ریسلنگ رولز اور نیشنل اینٹی ڈوپنگ رولز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ فیڈریشن ان سے چار بڑے الزامات پر وضاحت چاہتی ہے، جس میں 2024 کے پیرس اولمپکس سے ان کا ڈس کوالیفائی ہونا بھی شامل ہے، کیونکہ وہ طے شدہ وزن حاصل نہیں کرسکیں تھیں۔ اس کے علاوہ ان سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اینٹی ڈوپنگ رولز کے تحت وہ اپنے ٹھکانے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں مبینہ طور پر کیوں ناکام رہیں اور مارچ 2024 میں اس وقت کی انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعہ مقرر کردہ ایڈہاک پینل کے ذریعہ منعقدہ سلیکشن ٹرائلز کے دوران انہوں نے دو مختلف وزن کیٹگری میں کیسے اور کیوں حصہ لیا۔چونکہ ونیش پھوگاٹ کو 26 جون تک کسی بھی گھریلو ایونٹ میں شرکت کی اجازت نہیں ہے، اس لیے وہ گونڈا میں 10 سے 12 مئی تک ہونے والے نیشنل اوپن رینکنگ ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔ یہ ٹورنامنٹ ان کے لیے واپسی کا ایونٹ سمجھا جا رہا تھا۔ڈبلیو ایف آئی نے کہا، براہ کرم توجہ دیں کہ اگر آپ مقرر کردہ (14 دن) کے اندر اپنا تحریری جواب جمع کرنے میں ناکام رہتی ہیں، یا آپ کو ذاتی سماعت کا موقع دیا جاتا ہے اور آپ اس کا فائدہ نہیں اٹھاتی ہیں، تو فیڈریشن کو یکطرفہ کارروائی کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑے گا۔ ایسی حالت میں، فیڈریشن ریکارڈ پر موجود حقائق کی بنیاد پر جو بھی حکم مناسب اور درست سمجھے گا، وہ منظور کرے گا۔فیڈریشن نے مزید کہا، ‘آپ کے جوان کے جمع ہونے اور اس پر غور و خوض ہونے تک، 12 ستمبر 2025 میں آپ کی جانب سے بھیجے گئے خط/ای میل کی بنیاد پر، آپ کی چہ ماہ کی کم ازکم لازمی مدت ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ اس کے نتیھے میں، آپ 26 جون تک ڈبلیو ایف آئی کے کسی بھی ٹقرنامنٹ یا ایونٹ میں حصہ لینے کی اہل نہیں ہوں گی۔ اس میں گونڈا میں ہونے والے 2026 سینئر اوپن رینکنگ ٹورنامنٹ اور کھیل و فیڈریشن کے وسیع تر مفاد میں منعقد ہونے والے کسی بھی دیگر آئندہ قومی، رینکنگ، سلیکشن اور بین الاقوامی مقابلوں میں آپ کی شرکت پر عائد پابندی بھی شامل ہے۔قومی شرمندگی ڈبلیو ایف آئی نے مزید کہا کہ 2024 پیرس اولمپکس میں وزن مقررہ حد کے اندر نہ رکھ پانے اور 50 کلوگرام زمرے کے فائنل سے پہلے ہی کی ڈس کوالیفائی ہوجانے کی وجہ سے پورے ملک کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ونیش کی بات کریں تو، انہوں نے پیرس گیمز کے بعد اپنے پروفیشنل کیرئیر کو الوداع کہہ دیاتھا، لیکن گزشتہ سال دسمبر میں انہوں نے اچانک اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے واپسی کا اعلان کردیا۔












