ایڈاہو، (یو این آئی) امریکی ریاست ایڈاہو کے فوجی اڈےماونٹن ہوم میں جاری فضائی مظاہرہ اس وقت خوفناک منظر میں تبدیل ہو گیا جب ای اے-18 جی طرز کے دو امریکی جنگی طیارے حاضرین کے سامنے فضا میں آپس میں ٹکرا گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں تصادم کا ہولناک لمحہ اور پائلٹس کو پیراشوٹ کے ذریعے اپنی جانیں بچاتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔یہ دونوں طیارے گن فائٹرز اسکائیز نامی ایئر شو کے دوران کرتب دکھا رہے تھے کہ چند ہی لمحوں میں وہ خطرناک حد تک ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ گئے اور فضا میں ان کا آپسی تصادم ہو گیا، جسے دیکھ کر وہاں موجود تماشائی ششدر رہ گئے۔ تصادم کے چند سیکنڈ بعد دونوں طیاروں کے عملے نے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا دی اور وہ بحفاظت فوجی اڈے کے اطراف کے علاقے میں اترنے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ حادثے کے بعد آسمان پر دھوئیں کے گہرے بادل اور ملبہ پھیل گیا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، خوش قسمتی سے تمام پائلٹس اس واقعے میں محفوظ رہے اور فوجی حکام نے فی الحال کسی کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔مقامی اخبار ایڈاہو اسٹیٹس مین نے رپورٹ کیا کہ یہ سنسنی خیز حادثہ امریکی فضائیہ کے ماونٹن ہوم بیس پر ایئر شو کے دوران اس وقت پیش آیا جب دونوں جنگی طیارے نسبتاً کم بلندی پر فارمیشن فلائنگ کے تحت کرتب پیش کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ ای اے-18 جی طیارہ دراصل ایف/اے-18 ایف لڑاکا طیارے کا ہی ایک جدید ترین ماڈل ہے، جو بنیادی طور پر الیکٹرانک وارفیئر، دشمن کے ریڈار جام کرنے اور ان کے فضائی دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ امریکی بحریہ ان طیاروں کو انتہائی پیچیدہ فوجی مشنوں میں استعمال کرتی ہے، جہاں پائلٹس کے مابین غیر معمولی ہم آہنگی اور خاص طور پر قریب رہ کر پرواز کرنے کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔اس تصادم کی وائرل ویڈیوز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک طوفان برپا کر دیا ہے، جہاں تصادم کے فوراً بعد پائلٹس کے پیراشوٹ کھلنے پر صارفین نے اسے ایک معجزاتی بچاؤ سے تعبیر کیا۔ بعض ویڈیوز میں طیاروں کے ٹوٹے ہوئے حصے زمین کی طرف گرتے اور دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ پائلٹس کی جانب سے بروقت چھلانگ لگانے کے فیصلے نے ہی ان کی زندگیاں بچائیں، کیونکہ یہ ٹکراؤ درمیانی بلندی پر تیز رفتار فلائنگ کے دوران ہوا تھا۔دوسری جانب، امریکی بحریہ یا فضائیہ نے اب تک اس حادثے کی اصل وجوہات یا مالی نقصانات کی تفصیلات سے متعلق کوئی بھی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم واقعے کے اصل اسباب کا پتہ لگانے کے لیے وسیع پیمانے پر فوجی تحقیقات شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ امریکہ میں ایسے فوجی فضائی حادثات کی صورت میں عام طور پر انتہائی پیچیدہ تکنیکی تحقیقات کی جاتی ہیں، جن میں فلائٹ ریکارڈنگ، پائلٹس کی باہمی گفتگو اور فضائی کرتب کے ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگرچہ ایڈاہو کے اس حادثے میں تمام پائلٹس محفوظ رہے، لیکن اس واقعے نے امریکی فضائی مشقوں اور نمائشوں کے حفاظتی معیارات پر ایک بار پھر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔












