بغداد، (یو این آئی) عراق میں گزشتہ دنوں قید سے آزادی پانے والی اسرائیلی و روسی شہریت کی حامل خاتون صحافی اور محقق الزبتھ تسورکوف نے اپنے اغوا کاروں کے حوالے سے نئی اور سنسنی خیز تفصیلات منظرِ عام پر لائی ہیں۔ انہوں نے عراقی مسلح تنظیم حزب اللہ بریگیڈزکے حال ہی میں گرفتار ہونے والے سرکردہ رہنما محمد باقر سعد داؤد السعدی پر عراق کے اندر اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کی متعدد وارداتوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ الزبتھ کا دعویٰ ہے کہ السعدی ایران نواز سرگرمیوں کا ایک اہم مہرہ تھا اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی ایک سازش کا حصہ بھی رہا ہے۔معروف نیوز چینل "العربیہ” کو دیے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں تسورکوف نے بتایا کہ انہوں نے امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کو اپنے اغوا کار نیٹ ورک کے بارے میں انتہائی اہم معلومات فراہم کی ہیں، جو امریکی تفتیش کاروں کے لیے بہت سودمند ثابت ہوئیں۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ السعدی عراقی سماجی کارکنوں کو لاپتہ کرنے اور ان کے قتل میں ملوث رہا ہے، جبکہ حزب اللہ بریگیڈز کے سکیورٹی چیف "ابو علی العسکری” نے بھی انہیں غیر قانونی حراست میں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔الزبتھ تسورکوف کا یہ چونکا دینے والا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں السعدی کے خلاف دائر مقدمے کی عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی حکام نے طویل نگرانی، خفیہ ریکارڈنگز اور فون کالز کا سراغ لگا کر اسے دھر لیا تھا۔ ایف بی آئی کے ایک انڈر کور (خفیہ) ایجنٹ نے طویل تفتیش کے دوران السعدی سے عراق کے اندر سکیورٹی نیٹ ورکس اور قتل و غارت گری کے اعترافات حاصل کیے۔ ان تحقیقات سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ مذکورہ کمانڈر ایران سے منسلک مسلح گروہوں کے نیٹ ورک سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔ محقق تسورکوف نے تصدیق کی کہ السعدی کو پہلے ترکیہ سے گرفتار کیا گیا، جہاں سے اسے ایف بی آئی کے حوالے کیا گیا اور وہاں اس نے خفیہ ایجنٹ کے سامنے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا۔یاد رہے کہ الزبتھ تسورکوف مشرقِ وسطیٰ خصوصاً عراق، شام اور مسلح گروہوں کے امور کی مانیٹرنگ کرنے والی ایک ممتاز ماہر ہیں۔ وہ سال 2023 میں عراق کے دورے کے دوران پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی تھیں، جس کے بعد اسرائیل نے عراقی حزب اللہ بریگیڈز پر ان کے اغوا کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کی قید کا یہ معاملہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک انتہائی حساس سکیورٹی کیس بن چکا تھا، جس کے لیے مسلسل سفارتی دباؤ اور خفیہ انٹیلی جنس آپریشنز جاری رکھے گئے۔ تسورکوف نے یہ بھی بتایا کہ ان کے اغوا کے ذمہ دار حزب اللہ بریگیڈز کے کئی اہم کمانڈرز حالیہ جنگ کے دوران مارے جا چکے ہیں۔












