شعیب رضافاطمی
جمعہ کے روز اتر پردیش کے وزیر اعلی جوگی آدتیہ ناتھ نے راجستھان کے جالور میں ایک مندر کی جدید عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے سناتن دھرم کو ملک کا قومی دھرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہم سب اپنے ویکتی گت سوارتھوں سے اوپر اٹھ کر اپنے اس راشٹریہ دھرم کے ساتھ جڑتے ہیں ۔ہمارا دیش سورکھچھت ہو،ہمارے مان بندوؤں کی پنر استھاپنا ہو،گؤ/ برہمن کی رکچھا ہو۔کسی کال کھنڈ میں اگر ہمارے دھرم استھلوں کو اپوتر کیا گیا ہے تو ان کے پنر استھاپنا کا ایک ابھیان چلے۔”
یعنی وزیر اعلی نے نہ صرف یہ کہ ملک کا قومی مذہب سناتن دھرم کو قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ ہم سب کو متحد ہوکر ملک کی حفاظت بھی کرنی ہے اور گائے و برہمن کی بھی حفاظت کرنی ہے ۔انہوں نے اپنے اس بیان میں واضح لفظوں میں یہ اعلان بھی کیا کہ کسی بھی دور میں ہمارے منادر کو اگر ناپاک کیا گیا ہے (توڑا گیاہے )تو اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی ایک مہم چلانی ہوگی۔
جوگی آدتیہ ناتھ کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ملک میں 2024 کے عام انتخاب کا بگل بج چکا ہے ۔بہار اور اتر پردیش میں برہمن وادی ذہنیت کے خلاف دلت رہنما گول بند ہو رہے ہیں اور براہ راست تلسی داس کی لکھی رامائن سمیت دیگر سناتنی مذہبی کتابوں میں درج دلت مخالف چوپائیوں کو کتاب سے خارج کرنے کی مانگ کر رہے ہیں ۔بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کا آغاز ہو چکا ہے اور بی جے پی کی مخالفت کے باوجود عدالت عالیہ نے اس کی اجازت بھی دے دی ہے ۔واضح ہو کہ دلت لیڈر ایک طویل عرصہ سے برہمن واد کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں لیکن ووٹ بینک کی سیاست نے بی جے پی کو اس قدر مجبور کر رکھا ہے کہ وہ اس پوری تحریک کو نظر انداز کر کے ایک نیا تنازعہ مسلمانوں کے حوالے سے کھڑا کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایک بار پھر ملک میں ہندو مسلم تنازعہ کھڑا ہو جائے اور رام جنم بھومی اور بابری مسجد تنازعہ کی طرز پر متھرا اور کاشی کی مساجد کے لئے مسلمانوں کی تحریک شروع ہو جائے۔
دنیا کو یہ باور کرانے کے لئے آر ایس ایس مسلمانوں کے ساتھ میٹنگ در میٹنگ بھی کر رہی ہے اور موہن بھاگوت سمیت ان کے کئی سپہ سالار مسلم دانشوروں اور علما کے ساتھ گفت وشنید کر کے متھرا اور کاشی کے مساجد پر اپنا حق بھی جتا رہے ہیں۔خود ملک کے سنجیدہ مسلمانوں میں یہ خبر بحث کا موضوع ہے کہ آخر چند مسلم دانشوروں نے آر ایس کے سرکردہ لیڈروں سے میٹنگ کا جو سلسلہ چلا رکھا ہے اس کا مقصد اور حاصل کیا ہے ؟جبکہ اس درمیان خود موہن بھاگوت کا دل دہلا دینےبوالا انٹرویو بھی سامنے آچکا ہے جس میں وہ شدت پسندی کو ہندو تنظیموں کا فطری رد عمل قرار دے رہے ہیں ۔ مسلمانوں میں تشویش اس وجہ سے بھی ہے کہ ملک کی سرکردہ مسلم تنظیم جماعت اسلامی اور جمعیت العلما بھی اس میٹنگ میں شامل ہو رہی ہے ۔اردو پریس کو تو اس میٹنگ کی خبر بھی انگریزی اخبارات کے ذریعہ موصول ہو رہی ہے ۔لوگ یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ مئی 2022 میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے اجلاس کے بعد بھی یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جلد ہی ہندومسلم ڈائلاگ کا آغاز کیا جائے گا اور اس کے لئے کنوینر سب کمیٹی ملک معتصم خان صاحب کو ذمہ داری دی گئی ہے تو پھر اس اعلان کے سات آٹھ ماہ بعد ایک نئی ٹیم کے ساتھ خان صاحب براہ راست آر ایس ایس کے پاس کیسے اور کیوں پہنچ گئے ؟اور جماعت اسلامی ہند و جمعیت العلما جیسی سرکردہ تنظیم کے ساتھ مسلم مجلس مشاورت کو اس میٹنگ سے ٹاٹ باہر کیوں کر دیا گیا ؟
انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز نجیب جنگ کی رہائش گاہ پر مسلم کمیونٹی کے اراکین کے ساتھ بند کمرے کی میٹنگ میں نفرت انگیز تقاریر، ماب لنچنگ، بلڈوزر کی سیاست اور متھرا اور کاشی میں مندروں سمیت کئی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی گزشتہ سال 22 اگست کو پانچ ممتاز مسلمانوں سے ایک ملاقات کی تھی۔
14 جنوری کو، آر ایس ایس کے رہنماؤں اندریش کمار، رام لال اور کرشن گوپال- جو بات چیت جاری رکھنے کے لیے بھاگوت کے ذریعہ نامزد کیے گئے تھے نے نجیب جنگ، سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، صحافی شاہد صدیقی اور سعید شیروانی سے ملاقات کی۔ لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ، جو بھاگوت میٹنگ کا حصہ تھے،اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے۔
یہ میٹنگ اس لیے بھی اہم تھی کہ اس میں جماعت اسلامی ہند، جمعیت علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند کے مسلم علماء بھی شامل تھے۔ مذہبی سربراہان نے جنگ اور دیگر سرکردہ مسلمانوں سے ایک دن پہلے 13 جنوری کو شاہد صدیقی کے گھر ملاقات کی تھی تاکہ لائحہ عمل بنایا جا سکے ۔
اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے، شاہد صدیقی نے ٹائمزآف انڈیا کو بتایا، "ہم نے مسلم کمیونٹی کے مسلسل پولرائزیشن اور پسماندگی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک اور خوشگوار میٹنگ کی۔ ہمیں امید ہے کہ مختلف شہروں میں مزید ملاقاتیں بھی ہونگی ۔” لئیق احمد، نیشنل اسسٹنٹ سکریٹری، جماعت اسلامی ہند نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، کہ اس میٹنگ میں نفرت انگیز تقاریر کا معاملہ اٹھایا گیا اور آر ایس ایس کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس سے بین الاقوامی سطح پر ہندستان کی بدنامی ہوتی ہے،
اس میٹنگ میں جب پنچجنیہ اور آرگنائزر کے ساتھ بھاگوت کے حالیہ انٹرویو کا مسئلہ اٹھایاگیااور ہندوؤں کے بارے میں آر ایس ایس کے سربراہ کے تبصرے "ہم 1000 سالوں سے حالت جنگ میں ہیں” اور مسلمانوں کو "برتری کی بیان بازی” ترک کرنے کی ضرورت والے بیان پر جب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی جس نے ایک سیاسی طوفان کو جنم دیاتھا تو آر ایس ایس کے رہنماؤں نے ان ریمارکس کو یہ کہہ کر قابل اعتنا نہیں سمجھا کہ یہ انٹرویو اصل میں ہندی میں ہے اور اسے صحیح طریقے سے سیاق و سباق کے ساتھ ترجمہ نہیں کیا گیا ہے۔
بند کمرے کی میٹنگ میں سب سے چونکا دینے والی بحث آر ایس ایس کی طرف سے یہ تجویز تھی، کہ مسلم کمیونٹی کاشی اور متھرا کی مساجد کو ان کے حوالے کرنے کو تیار ہو جائیں ۔
اس تجویز کی تصدیق کرتے ہوئے، ملک معتصم خان، نیشنل سکریٹری،جماعت اسلامی ہند نے جو نجیب جنگ کی رہائش گاہ پر میٹنگ کا حصہ تھے، نے کہا، "انہوں نے متھرا اور کاشی کو بابری مسجد کے تناظر میں اٹھایا اور ہم نے انہیں عدالتی مقدمات کے بارے میں یاد دلایا۔ ہم نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ کیا آپ تین (بابری، کاشی اور متھرا) پر رکیں گے اور انہوں نے کہا کہ وہ کسی چیز کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
انگریزی اخبار کے ذریعہ اس خبر کے آنے کے بعد مسلمانوں کے سنجیدہ اور سرکردہ لوگوں کی طرف سے یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا ایک بار پھر آر ایس ایس اور بی جے پی عام انتخاب سے قبل ایک طرف تو مسلمانوں سے متنازعہ معاملات پر ڈائلاگ کرنے کا ڈرامہ کر رہی ہے اور دوسری طرف انہیں مشتعل کرنے کے لئے ان کے سرکردہ لیڈران نئے نئے بیانات جاری کر کے ملک کے ماحول کو مذہبی منافرت کی آگ کے کنویں کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔ایسے میں ان میٹنگوں کا حاصل کیا ہے ؟












