نئی دہلی،روس اور یوکرین جنگ پر امریکہ نے بڑی بات کہی ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ جنگ ختم کرانے میںجی 20-کے صدر کی شکل میں بھارت کو اہم رول ادا کرنا ہے، کیونکہ بھارت کے روس کے ساتھ لمبے وقت سے کافی اچھے مراسم رہے ہیں جن کو تاریخی مانا جاتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بھارت کے پاس قدرتی طور پر بہت طاقت ہے اور اس کی بات انٹرنیشنل سطح پر نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ اس کو تسلیم بھی کیا جاتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں جنگ اس وقت ختم ہوسکتی ہے جب روس چاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی میزبانی میں جی20-ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مشترکہ بیان کے دوران روس اور چین نے حمایت نہیں کی۔ انہوں نے یوکرین میں موجودہ صورتحال کیلئے روس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر روس چاہے تو کل یوکرین جنگ ختم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف روس اور چین نے ’بالی دستاویز‘ پر دستخط کرنے سے انکار کیا اور یہ کہ اقوام متحدہ کی قومی اسمبلی میں مزید جی-20 ممالک نے روس کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے جس سے خوردونوش کی اشیاء مہنگی ہورہی ہیں۔ انہوں نے چین کو بھی متنبہ کیا کہ چین روس کی فوجی مدد کرتا ہے۔انٹونی بلنکن نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’ہر ملک یوکرین میں روسی جنگ کے اثرات سے دو چار ہے۔ ہمیں ان لوگوں تک کھانا پہنچانا ہے جو بھوکے ہیں اور ممالک کو زرعی طور پر خودمختار بنانے میں میں مدد کرنا ہے‘۔ انہوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جی-20 وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں چیئرز کی سمری کے ساتھ آنے کے لیے تعریف کی اور کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ اپنی مختصر ملاقات پر بلنکن نے کہا کہ انہوں نے روسی وزیر پر زور دیا کہ وہ معاہدے کیلئے مذاکرات کریں، جنگ ختم کریں اور امن کی راہ پر واپس آئیں۔ جب ہندوستان میں جمہوریت کی صورت حال پر سوال کیا گیا تو انٹونی بلنکن نے جواب دیا کہ ہندوستان اور امریکہ دو جمہوریتیں ہیں اور انہیں جمہوریت کی بنیادی اقدار کیلئے خود کو جوابدہ رکھنا ہوگا۔ امریکی وزیر خارجہ نےکہا ’ہم اس معاملے پر اپنے ہندوستانی ہم منصبوں کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت کرتے ہیں اور آج بھی جے شنکر سے بات چیت کی‘۔ ہندوستان میں این جی اوز پر عائد پابندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے کہا ’جب این جی اوز پر پابندیوں کی بات آتی ہے، تو ہم اپنے ہندوستانی ہم منصبوں کے ساتھ اس بات کو اٹھاتے ہیں کہ تمام این جی اوز کو بغیر کسی پابندی کے اپنا کام کرنے کی اجازت دی جائے، اور یہ مسئلہ ہماری بات چیت میں باقاعدگی سے آتی ہے‘۔ دریں اثنا، چین کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے بلنکن نے کہا کہ اگر چین روس کی فوجی مدد کرتا ہے یا روس پر عائد پابندیوں کو ختم کرتا ہے تو یہ ایک سنگین مسئلہ ہوگا۔پرائس نے کہا کہ جب وزیراعظم مودی نے گزشتہ سال کہا تھا کہ یہ جنگ کا زمانہ نہیں ہے تو پوری دنیا نے سنا ، کیونکہ جب وزیراعظم نریندر مودی اور ان کا ملک اس طرح کی باتیں کہتے ہیں تو امریکہ کیلئے ساتھی کی طرح مانا جاتا ہے اور یہ بات روس کے لئے بھی مفید مانی جاسکتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی کہی ہوئی بات دور ہو یا پاس تمام ممالک کیلئے با معنی ہوتی ہے۔ امریکہ اس ایشو پر بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنا جاری رکھے گا۔












