نئی دہلی ، آل انڈیا مسلم ایکتا کمیٹی کے چیئر مین حاجی اکرام حسن نے پریس کو جاری ایک بیان کہا کہ دریا گنج کا مشہور و معروف بارات گھر’مہاویر واٹیکا‘ہے جس میں نوے فیصد شادیاں مسلمانوں کی ہوتی ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ ایم سی ڈی ویج اور نان ویج کے قضےہ میں الجھا کر سیکورٹی کے طور پرجمع کی گئی رقم کوغصب کررہا ہے اور ےہ سلسلہ گذشتہ کئی دہائیو ں سے جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب مہاویر واٹیکا میں زیادہ تر پروگرام اقلیتوں کے ہوتے ہیں تو پھر گوشت پر پابندی کیوں کر لگائی جاسکتی ہے اور پھر اس کے نام پر موٹی رقم وصول کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ اب جبکہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے اور ایم سی ڈی میں بھی اسی کی حکومت آگئی ہے اور سیکولرزم کا دم بھر نے والی بھی ہے اس کے باوجود ’مہاویر واٹیکا ‘میں اس قسم مسئلہ در پیش ہونا سیکرلزم پر یقین رکھنے والوں کے لئے مایوس کن ہے۔ انہوں نے میئر شیلی اوبرائے اورڈپٹی میئر آل محمد اقبال سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرانے میں کوتاہی او ر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے انتظامےہ سے جواب طلب کیا جائے تاکہ ویج اور نان ویج کے نام پر جو تفریق برتی جارہی ہے اس سے لوگوں کو نجات ملے۔ انہوں نے کہاکہ بارات گھر کے اندر جس طرح کی گندگی دیکھی جارہی ہے اور خاص کر جہاں پر کھانا بنایا جاتا ہے اس ایریا میں گندگی کے ساتھ ساتھ زمین پر گڈھے ہیں جس کی وجہ سے باورچی کو کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ دیگر بارات گھروں میں کھانا بنانے والی جگہ پر شیڈ ہوتا ہے تاکہ دھوپ اور برسات سے حفاظت ہوسکے اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اگر ایم سی ڈی نے اس بابت ٹھوس لائحہ مرتب نہیں کیا گیا تو ہم اس کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔












