نئی دہلی، 25 اپریل ،سماج نیوزسروس: دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج پر بیٹھی خاتون پہلوانوں کے معاملے میں سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ بین الاقوامی کھیلوں میںملک کی نمائندگی کرنے والے پہلوانوں نے درخواست میں جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔ اس معاملے پر عدالت کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 28 اپریل کو عدالت میں ہوگی۔واضح رہے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی اور مجرمانہ دھمکیاں دینے کا الزام لگاتے ہوئے پہلوان ونیش پھوگاٹ اور دیگر نے دہلی پولس کو ایف آئی آر درج کرنے اور ہدایت دینے کے مطالبے کے سلسلے میں کل سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔درخواست کے مطابق پھوگاٹ اور دیگر پہلوانوں نے دہلی پولیس کی طرف سے ایف آئی آر درج کرنے میں غیر معمولی تاخیر” کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس کو ہدایت دینے کی درخواست کی تھی۔23 جنوری کو وزارت کھیل نے اولمپک میڈلسٹ باکسر ایم سی میری کوم کی سربراہی میں مسٹر سنگھ کے خلاف الزامات کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے اپریل کے پہلے ہفتے میں اپنی رپورٹ پیش کی، حالانکہ اس کے نتائج ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے۔
میری کوم کے علاوہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں اولمپک میڈلسٹ پہلوان یوگیشور دت، سابق بیڈمنٹن کھلاڑی اور مشن اولمپک سیل کی رکن ترپتی مرگنڈے، سابق اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ٹیم) رادھیکا سریمن اور ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم کے سابق سی ای او راجیش راجگوپالن شامل تھے۔اولمپیئن پہلوان بجرنگ پونیا، ساکشی ملک، ونیش پھوگاٹ اور دیگر سرکردہ ہندوستانی پہلوانوں نے اتوار سے دہلی کے جنتر منتر پر ڈبلیو ایف ا?ئی کے سربراہ کے خلاف ایک بار پھر احتجاج شروع کر دیا ہے۔ اولمپک گیمز میڈلسٹ ساکشی ملک صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روپڑیں۔ ونیش نے پہلے الزام لگایا تھا کہ اسے مسٹر سنگھ نے ذہنی طور پر ہراساں کیا تھا اور (دعوی کیا تھا) اس نے خودکشی کا بھی سوچا تھا۔انہوں نے کہا کہ اتوار کو ایک نابالغ سمیت سات خواتین پہلوانوں نے دوبارہ پولیس میں شکایت درج کرانے کی کوشش کی، لیکن پولیس حکام نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا۔
سپریم کورٹ نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والی سات خواتین پہلوانوں کی عرضی پر منگل کے روز دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعہ کو اس کیس کی سماعت کرے گی۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور پی ایس نرسمہا کی بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کے دلائل پر غورکرتے ہوئے کہا کہ یہ "سنگین” معاملہ ایک نابالغ سمیت سات خواتین پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کے الزامات سے متعلق ہے ۔ بنچ نے مسٹر سبل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے کی اگلی سماعت جمعہ کو کرے گی۔واضح رہے کہ ہندوستانی پہلوان ونیش پھوگاٹ اور دیگر نے ڈبلیو ایف آئی کے سربراہ سنگھ پر جنسی ہراسانی اور مجرمانہ دھمکیاں دینے کا الزام لگاتے ہوئے دہلی پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے کی مانگ کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے یہ بھی ہدایت کی کہ رٹ پٹیشن میں پہلوانوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی نوعیت کے پیش نظر درخواست گزاروں کے ناموں میں ترمیم کی جائے گی۔سپریم کورٹ نے اپنا حکم جاری کرنے سے پہلے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ عام طور پر ایسے معاملات میں متاثرہ شخص ضابطہ فوجداری کی دفعہ 156(3) کے تحت علاج کا فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ اس پر مسٹر سبل نے استدلال کیا کہ ایسی شکایات پر ایف آئی آر درج نہ کرنے کے لئے یہاں تک کہ پولیس اہلکاروں پر بھی مقدمہ چلایا جا سکتا ہے ۔چیف جسٹس چندر چوڑ کی سربراہی والی بنچ کے سامنے پیر کو سینئر ایڈوکیٹ نریندرہڈا نے ‘خصوصی ذکر’ کے دوران یہ معاملہ اٹھایاتھا۔ وکیل نے درخواست گزاروں کی طرف سے ان کا موقف پیش کرتے ہوئے بنچ سے اس معاملے پر جلد سماعت کی استدعا کی تھی۔ بنچ نے درخواست کے درج نہ ہونے کی بات کہتے ہوئے مسٹر ہڈا سے منگل کو دوبارہ معاملہ کا ذکر کرنے کو کہا اور آج مسٹر ہڈا کی حمایت میں مسٹر سبل نے یہ معاملہ اٹھایا۔












