تل ابیب(ہ س)۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے بعد اب امن کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور اسرائیل ان مواقع کو ضائع نہیں کرے گا۔اپنے ایک بیان میں نیتن یاہو نے کہا فتح اور کامیابی ملک کے لیے مواقع لائی ہے۔ اس کے نتیجے میں امن بھی پھیلے گا اور نئے معاہدات بھی ہوں گے۔ اس سلسلے میں پورے جوش اور جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ہم غزہ میں حماس کی لمبی قید میں پڑے اپنے قیدیوں کی رہائی اور حماس کی شکست کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں امید کی ایک کھڑکی کھل گئی ہے۔ ہم اس سلسلے میں ایک دن بھی ضائع کرنے کو تیار نہیں ہیں۔جمعرات ہی کے روز ایک اسرائیلی اخبار نے اپنے ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا باہم اتفاق ہوا ہے کہ وہ غزہ جنگ کو تیزی سے اختتام کی طرف لائیں گے۔ اخباری ذرائع کے مطابق یہ اتفاق اسی ہفتے فون پر ہونے والی بات چیت میں کیا گیا ہے۔اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ کے بارے میں ٹرمپ اور نیتن یاہو میں یہ اتفاق ممکنہ طور پر اگلے دو ہفتوں میں جنگ بندی کرنے کے لیے ہے۔اس جنگ بندی کے بدلے میں امکان ہے کہ اسرائیل کے حق میں ابراہم معاہدہ بھی ایک بار پھر آگے بڑھے اور اسرائیل کو ایک نارمل ریاست سمجھ کر اور عرب ملک اسے تسلیم کریں۔اگرچہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان میں اشارتاً اسی امکان کو زیر بحث لایا گیا ہے لیکن ان کے دفتر نے اس بارے میں کھلے انداز سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اخبار کے مطابق جس طرح ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرائی ہے۔ اسی انداز سے غزہ میں جنگ بندی کی توقع ہے۔ خیال رہے غزہ میں جنگ کے اکیس ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔یاد رہے اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اسرائیل نے ایران کو کمزور کر دیا ہے۔ اب ہو سکتا ہے کہ مزید کئی ملک ابراہم معاہدے کے تحت بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔












