پیانگ یانگ، (یو این آئی) شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنی دشمنی کی پالیسی ترک کر دے اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کے طور پر شمالی کوریا کی آئینی حیثیت کو قبول کرلے تو شمالی کوریا امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔کوریا کی مرکزی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مسٹر کم نے یہ تبصرے کوریا کی ورکرز پارٹی کی نویں کانگریس کے موقع پر منعقدہ جوہری فوجی پریڈ میں کئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ شمالی کوریا کی ایک جوہری ملک کے طور پر موجودہ حیثیت کا احترام کرتا ہے جیسا کہ اس کے آئین میں بیان کیا گیا ہے اور شمالی کوریا کے خلاف اپنی دشمنانہ پالیسی کو واپس لے لیتا ہے، تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم نہ کر سکیں”۔مسٹر کم نے کہا کہ امریکہ اور شمالی کوریا مل کر کام کرسکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب امریکہ یہ قبول کرلے کہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار مستقل طور پر موجود رہیں گے۔ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کے تبصروں کو اپریل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل امریکہ کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھولنے کے طور پر دیکھا گیا۔ تاہم مسٹر کم نے جنوبی کوریا کے ساتھ کسی بھی سفارتی بہتری کی امیدوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے "سب سے بڑا دشمن” قرار دیا۔
مسٹر کم نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ورکرز پارٹی آف کوریا نے مستقل طور پر جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کے طور پر ملک کی شناخت قائم کی ہے اور مخالفین پر واضح کر دیا ہے کہ جب تک عالمی ماحول بنیادی طور پر تبدیل نہیں ہو جاتا شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کو ترک نہیں کرے گا۔ سپریم لیڈر نے زور دے کر کہا کہ ملک کی جوہری مسلح افواج کو مزید وسعت دینا اور مضبوط کرنا پارٹی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے پاس سالانہ بنیادوں پر قومی جوہری قوت کو مضبوط کرنے کا ایک طویل المدتی منصوبہ ہے اور ہم جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ جوہری مشن کے ذرائع اور دائرہ کار کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے‘‘۔مسٹر کم کے مطابق، شمالی کوریا کی جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست کی حیثیت ممکنہ مخالفین کو روکنے اور علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرتی ہے۔ انہوں نے جوہری توانائی کو قومی سلامتی اور مفادات کے لیے کلیدی حفاظت قرار دیا۔مسٹر کِم نے ایشیا پیسیفک میں امریکی قیادت والے اتحادوں پر قابل قبول حدوں سے آگے بڑھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی فوجی سرگرمیاں ایک کشیدہ اور غیر معمولی صورتحال پیدا کر رہی ہیں جس سے جزیرہ نما کوریا اور پورے خطے کی سلامتی کو خطرہ ہے۔












