(بھاگل پور،پریس ریلیز)انجمن باغ و بہار،برہ پورہ، بھاگل پور کے زیر اہتمام نوشین جہاں کی رہائش گاہ پرشاعر جوثر ایاغ کی صدارت میںاسعد بدایونی کے یوم پیدائش پر ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نیاسعد بدایونی کے حیات و کارنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہا کہ اسعد بدایونی جدید اردو شاعری کا ایک اہم نام ہے۔ وہ بیک وقت غزل گو، نظم نگار، صحافی،مدیر،نثر نگار اور ایک شفیق اْستاد تھے۔وہ بنیادی طور غزل کے شاعر تھے۔انہوں نے لگ بھگ 22 آزاد نظمیں کہی اور انہوں نے پہلی نظم چودہ سال کی عمر میں اعتراف کے عنوان سے کہی۔ انکو صحافت سے بھی کافی دلچسپی تھی ۔اصل نام اسعد احمد اور تخلص اسعد بدایونی ۔25فروری1958ء قصبہ سہسوان،بدایونی ،یوپی میں پیدا ہوئے اور وفات5 مارچ 2003ء کو۔والد کا نام حاجی محمد احمد اور اہلیہ کا نام اسماء خانم۔انکی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہوئی۔انہوں حافظ اسلامیہ انٹر کالج بدایوں سے ہائی اسکول پاس کی۔ اعلی تعلیم کے لئے علی گڑھ گئے اور 1980ء میں بی۔اے کیا،پھر ایم۔اے کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی۔کی ڈگری حاصل کی۔ 1993ء میں وہ علی گڑھ یونیورسٹی میں لکچرر ہو ئے۔انہوں نے ماہنامہ بدایوں سے رعنائیاں نکالا ،اسکے بعد خالد بدایونی کے ساتھ ماہنامہ روشن جاری کیا اور اسکے کچھ دن کے بعد منظور ہاشمی کے ساتھ سہ ماہی دائرہ نکالا۔انکی تصانیف میں دھوپ کی سرحد،خیمہء خواب،جنوں کنارا،نئی پرانی غزلیں(شعری مجموعہ) داغ کے اہم لامذہ،نئی غزل نئی آوازیں،کاروان رفتہ،انتخاب کلام بیخود بدیوانی،بیخود بدایونی:حیات اور ادبی کارنامہ (نثری کتابیں) وغیرہ اہم ہیں۔انہیں اتر پردیش اردو اکادمی سے پانچ بار ایوارڈ ،امیتاز میر، آل انڈیا میر اکادمی لکھنوء سے۔انکی اہم نظموں میں سجدہ خاک کا موسم،جب لمس کے سورج بجھ جائیں،دھنک جسم،مشورہ، اعتراف،یہی بہت ہے، حیرتوں کے سلسلے،ایک اداس دعا،گلہ، وغیرہ اہم ہیں۔ نشست میں شامل محمد شاداب عالم،جوثر ایاغ، محبوب عالم نے اسعد بدایونی کی شاعری سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔












