ہمارے ملک میں سیاست ، مفادات کیلئے جوڑ توڑ اور تضادات کے اشتراک کا دوسرا نام ہے۔ یہ تو بہت نرم لفظوںمیں کی گئی تعریف ہے ورنہ میں اور آپ سب جانتے ہیں کہ ہماری سیاست کی تعریف کیسے کیسے ’’فنی اور ناگ فنی‘‘کے ساتھ کی جاتی ہے اور جب ایسے حالات ہو تو ایک مخلص لیڈر کے سامنے آنے کی توقع کرنا عبث ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو زمانہ شناش ہو ، علم ومعلومات کا خوگر ہو ، حق وباطل میںتمیز رکھتا ہو ، ذاتی مفادات پر عوامی مفادات کو فوقیت دیتا ہو، اقتدار کی لالچ سے دور ہوکر اپنے عوام کی مستقبل کی بہتری کیلئے فکر مند ہو ، سوچ وسیع ہو ، حقیقت پسندی سے کام لے اور عوامی نجی زندگی کے مسائل کو دیکھتے ہوئے اپنی زندگی بھی ایسے ڈھال لے ، جس سے عوام کی نفسیاتی الجھن کا حل پوشیدہ ہو اور جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ بین الاقوامی سطح پر عوام کی پہچان بن سکے۔ ایک نہایت تکلیف دہ جملہ اکثر سماعت سے ٹکراتا ہے کہ ہندوستانی عوام نہیں بلکہ ایک بھیڑ کا نام ہے۔ یقینا ایسا ہو گا لیکن اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کو آزاد ہونے کے بعد سے ہندوستان کو کوئی ایسا لیڈر نہ مل سکا جو اسے ایک مضبوط ملک بنا سکے۔ یہ ایک قوی حقیقت ہے کہ عوام کی ترقی میں ایک اچھے لیڈر کی اپنے عوام کیلئے بنائی گئی مستقبل کی حکمت عملی کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے۔
ہم ہندوستانی عوام ان سیاست دانوں کو لیڈر کا خطاب دیتے ہیں جو پانچ سال ملک میں لوٹ کھسوٹ کا مال جمع کرکے پھر ساری زندگی چین کی بانسری بجاتے ہیں، اپنے حقیقی اثاثوں کو چھپاکر جھوٹ کا بازار گرم کرتے ہیں، ایک بار اور کی امید لگائے پھر سے میدان میں کود پڑتے ہیںکہ اگر کرسی مل گئی تو ملک میں ایک بار پھر کرپشن کا بازار گرم کرنے کا موقع مل جائیگااور اگر نہ بھی ملا تو زندگی کے دن تو یوںبھی سکون سے گذرہی رہے ہیں،ہندوستان کے عوام اور ان کا مستقبل ان کے لئے اہم نہیں۔کیا ایسے رہنما ہندوستانی عوام کا مستقبل سنوار سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں، یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے لیڈر میں کیا وہ خصوصیات ہیں جو ایک ایسے رہنما میں ہونی چاہئے جنہیں ہم عوام کا لیڈر کہہ سکیں۔ مغرب کی مثال لے لیں وہاں عام آدمی کی نسبت کسی لیڈر معیارات سخت ہیں، کوئی بھی ایسا فعل جو عوام کے ذہنوںمیں بنے ہوئے اس کے تاثر کو جس کی بناپر اسے عوام میں مقبولیت حاصل ہوئی اور عوام کی ایک بڑی تعداد اس سے عقیدت رکھتی ہو ، اگر نقصان پہچاتا ہے تو یقینا یہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ دوسری جانب یہ صورتحال بھی پیدا ہونے کا قوی امکان ہے کہ اس ایک غلط فعل کو مثالی سمجھ کر آنے والی نسل اندھی تقلید کرتے ہوئے اپنانا شروع کردے اور فقط یہ سوچتے ہوئے یہ ہمارے اس لیڈر نے کہا جس نے واقعی ہمیں نہ صرف ایک نئی منزل کے طرف گامزن کا حوصلہ دیا بلکہ ٹھیک ہوجانے کا خواب بھی دکھائے اگر اس نے ایسا کیا ہے تو ہمیں بھی ایسا کرنا چاہئے، یہ طرز عمل زہر قاتل کی طرح نسلوںمیں منتقل ہوتا رہتا ہے، وقتی طور پر نظرانداز کردینے سے معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔
قارئین محترم!ایک ایسا شخص جو مستقل سیاسی زندگی اور ذاتی زندگی میں تنازعات کا محور رہا ہو وہ کیونکر پوری قوم کا لیڈر بننے کا حقدار ہوسکتا ہے، خواہ اس لیڈر کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو ، خواہ اس کا کوئی سا بھی نعرا ہو ، جس نے عوام کے دلوں میں گھر کر لیا ہے، وہ چاہے کسی بھی پرچم کے سائے میںالیکشن میں کامیاب ہوکر حکومت کی کرسی تک پہنچا ہو ۔ لیکن وہ جو بھی ہے ہندوستان کیلئے ہے، اس کی زندگی ہندوستان کی امانت ہے، اس کے فعل کا اثر پوری قوم پر آئیگا، لہذا وہ عام نہیں بلکہ اسے صادق اور امین کی شرط پر بھی پورا اترنا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے قول وفعل میں تضاد نہ ہو ۔ عوام اپنے لیڈر کو ایک آئیڈیل کے طور پر دیکھتی ہے، ظاہر ہے لیڈر ایک عام انسان کی طرح سوچتا سمجھتا ہے، جینا چاہتا ہے لیکن عوام کیلئے اس کا لیڈر کسی دیومالائی کردار کے شہزادے سے کم نہیں ہوتا جو کبھی غلط نہیں کرسکتااور نہ ہی اس کی گنجائش دی جاتی ہے۔ کوئی بھی لیڈر اپنے کئے گئے افعال کو اپنی ذاتی زندگی کہہ کر عوام کے ذہنوں میں آئے گئے سوالوں سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرسکتا، کوئی بھی لیڈر چاہئے وہ کسی پارٹی سے وابستہ ہو یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ عوام کیلئے زیادہ کام اسی نے کیا ہے، کوئی بھولے سے بھی یہ نہیں کہتا کہ اس کی پارٹی سے کوئی کمی رہ گئی ہے، کوئی یہ کہنے کیلئے تیار نہیں کہ ان کی پارٹی عوام کی توقعات اور امیدوں پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے، کسی کے لب پر یہ بات غلطی سے بھی نہیں آتی کہ جب کبھی ان کی پارٹی اقتدار میں تھی تو ڈھیر ساری خامیوںاور کمزوریوں کے سبب اپنے عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہ رہے، کوئی بھی اعتراف کرنے پر تیار نہیں کہ ان کے نمائندے اسمبلی کے ممبر اور وزیر مشیر بننے کے بعد اپنی ہی دنیا میں مگن رہے اور عوام کی دنیا سے ان کا تعلق نہ ہونے کے برابر رہا، کوئی یہ بھی نہیں بتلاتا کہ عوام نے کیا کیاخواب دیکھ کر اور کیا کیا تمنائیں دل میں بسا کر انہیں ووٹ دیکر منصب عہدہ اور گاڑی جھنڈا دلا دیامگر ان حضرات نے عوام کی تمنائوں کا خون کیا ، خوابوں کو خاک میں ملادیا۔ نہ اعتراف غلطی اور نہ اقرار خطا ، طرفہ تماشا یہ کہ سب کو اس بات کی ضد ہے کہ وہی عوام کا نجات دہندہ ہے، وہی مسیحائے عوام ہے۔ کوئی عوام سے بھی تو پوچھے کہ ان کی کیا رائے ہے، کہ کیا کسی لیڈر نے ان کے درد کا علاج کیا، ان کے زخم پر کسی نے مرہم لگایا ، ووٹ لینے والوں نے عوام کے مرض کا مداوا کیا؟
قارئین حضرات!جیسے جیسے چنائو کے دن قریب آتاجائیگاعوام کی حیرتوںمیں اور اضافہ ہوجائیگا۔ مسیحائوں کی طرف سے نئے نئے خواب دکھائے جائینگے، نئے نئے وعدے کئے جائینگے، ہر پارٹی کے بڑے بڑے لیڈران کی تشریف آوری ہوگی، پنڈال سجے گا، میلہ لگے گا، دھواںدھار تقریروں سے فضاگونج اٹھے گی، پارٹیوں کے مرکزی قائدین اور وزراء اپنی لجھے دار اور میٹھی خطابت سے اسٹیج پر بیٹھے بیٹھے ہی عوام کے سارے مسائل حل کردینگے، پھر سادہ لوح عوام کے موڈ ، مزاج اور نفسیات سے آشنا یہ مقرر حضرات عوام کی امن پسندی کی تعریف کرینگے، ان کے جذبہ حب الوطنی اور قومی یکجہتی وغیرہ کے قصیدے پڑھ کر آخر میں ووٹ مانگ لینگے اور پھر کہینگے کہ ایک ہماری پارٹی کے سوا اور کون ہے جو تمہاری مسائل حل کرسکیں، اس لئے ہماری چارہ گری پر ایمان لے آئو کہ فقط ہم ہی چارہ گر ہیں۔












