ایس اے ساگر
نئی دہلی 06مئی، سماج نیوز سروس: امرتسر اور جالندھر میں دھماکوں پر وزیراعلیٰ بھگونت مان نے بیان دیا کہ یہ بی جے پی کے کام کرنے کا طریقہ ہے۔جس ریاست میں انہیں الیکشن لڑنا ہوتا ہے وہاں پہلے فسادات کرواتے ہیں۔چھوٹے پیمانے پر دھماکے کروائے جاتے ہیں۔اندرونی لڑائیاں کروائی جاتی ہیں۔لوگوں کو مذہب اور ذات کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ذرائعکے مطابق جالندھر بی ایس ایف ہیڈ کوارٹر کے باہر ڈیلیوری اسکوٹر میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں رائیڈر اور بی ایس ایف اہلکار شدید زخمی ہوئے، حملے کی ذمہ داری خالصتان لبریشن آرمی نے قبول کی۔دوسرا دھماکا امرتسر خالصہ آرمی کیمپ کے قریب ہوا۔موصولہ تفصیلات کے مطابقپنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان اور ریاست کے اعلی پولیس اہلکار نے بدھ کے روز بی ایس ایف کی تنصیبات کے قریب دوہرے دھماکوں کے بعد تیزی سے مختلف طور سے الزامات عائد کئے ہیں، مان نے بی جے پی کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا جبکہ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے گڑبڑ پیدا کرنے کے لیے پاکستان کے حمایت یافتہ عناصر کی طرف اشارہ کیاہے۔یہ ریمارکس جالندھر اور امرتسر میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی تنصیبات کے قریب یکے بعد دیگرے دو دھماکوں کے بعد سامنے آئے جن میں ایک بی ایس ایف ہیڈکوارٹر کے قریب بھی شامل ہے۔ جبکہ مان نے دھماکوں کو انتخابات سے پہلے بڑے سیاسی ڈیزائن کے حصے کے طور پر تیار کیا، ڈی جی پی نے انہیں سرحد پار عناصر سے منسوب کیاہے۔پنجاب پولیس اور مرکزی ایجنسیوں نے گہرے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور ریاست بھر میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔مان نے الزام لگایا ہےکہ :’’جہاں بھی بی جے پی مقابلہ کرنا چاہتی ہے، اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔‘‘ اور پارٹی سے’اس طرح کی کارروائیاں بند کرنے‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ دھماکے پنجاب کے لیے اس کی تیاریوں کا حصہ تھے۔وہ بی جے پی کے پنجاب ہینڈل کے ایک ٹویٹ کا حوالہ دے رہے تھے، جو بنگال میں زعفرانی لہر کے آنے سے کچھ دیر پہلے پوسٹ کیا گیا تھا، جس میں صرف لکھا گیا تھا:’اگلا پنجاب‘۔ یہ دو الفاظ پارٹی کے اگلے سال ہونے والے پنجاب کے انتخابات کی طرف توجہ مرکوز کرنے کا اشارہ دینے کے لیے کافی تھے۔واضح رہے کہ پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے بدھ کے روز امرتسر اور جالندھر میں ہونے والے دو دھماکوں کے واقعات پر ردعمل ظاہر کیا جو ایک دوسرے کے چند گھنٹوں کے اندر پیش آئے، جس سے ریاست بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے مان نے کہا:’’یہ بی جے پی کا کام کرنے کا طریقہ ہے – کسی بھی ریاست میں جہاں وہ الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، وہ سب سے پہلے فسادات کرواتے ہیں، چھوٹے چھوٹے دھماکے کرتے ہیں، اور مذہب اور ذات کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرتے ہیں، یہ بی جے پی کی انتخابی تیاری ہے… امن و امان برقرار رکھا جائے گا اور قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی۔” میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پنجاب اور بی جے پی اب بہت سے سیاہ دن نہیں دیکھے گی۔غور طلب ہے کہ امرتسر کے خاصا کنٹونمنٹ ایریامیں رات گئے ایک مشتبہ دھماکے کی اطلاع ملی توامرتسر کے ایس پی آدتیہ ایس واریئر کے مطابق بم ڈسپوزل اورفارنسک ٹیموں کو دھماکے کی جگہ پر معائنے کے لئے تعینات کردیا گیا ۔دریں اثنامذکورہ دونوں بم دھماکوں کی ذمہ داری خالصتان گروپ نے قبول کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھیوں کے قتل کا بدلہ قرار دے دیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی بے پی حکومت کے شدت پسند اقدامات نے پنجاب او منی پور میں بے چینی بڑھادی ہے، مقبوضہ کشمیر سمیت مختلف بھارتی ریاستوں میں اضطرات مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ بھارت کو پاکستان پر الزام لگانے کے بجائے اندرونی اصلاحات کرنا ہوں گی۔












