نئی دہلی/کیمپ آفس، رائے پور؛ (یو این آئی) لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے آج چھتیس گڑھ قانون ساز اسمبلی کے احاطے میں قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے لیے دو روزہ اورینٹیشن پروگرام کا افتتاح کیا۔اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر برلا نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کے تینوں اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے ۔ چونکہ ریاست کے تینوں ادارے اپنے اختیارات آئین سے اخذ کرتے ہیں، اس لیے ان اداروں کے اختیارات اور افعال میں کوئی دوہراپن نہیں ہونا چاہیے ۔قانون سازوں میں وقار اور شائستگی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر نے اراکین اسمبلی پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی امیدوں اور خواہشات کے اظہار کے لیے ایوان کے پلیٹ فارم کا استعمال کریں۔ ہندوستان کی خوشحال پارلیمانی جمہوریت کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے اور اختلاف پارلیمانی جمہوریت کی روح ہے ، لیکن اختلاف رائے کا اظہار پارلیمانی وقار اور احترام کے قائم کردہ پیمانے کے اندر ہونا چاہیے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب قومی مفاد کی بات آتی ہے تو تمام اراکین کو پارٹی سیاست سے اوپر اٹھ کر عوامی مفاد کو حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے ۔مسٹر برلا نے کہا کہ ایوان میں اسپیکر کا وقار سب سے اہم ہے اس لئے ایوان کے دونوں اطراف کے اراکین کو صدر نشیں کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہاسپیکر کا احترام جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد مضبوط کرے گا۔ انہوں نے اراکین کو مشورہ دیا کہ وہ خلل ڈالنے کے ہتھکنڈوں کو مسترد کریں اور بحث و مباحثہ کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں بامعنی بحث سے لوگوں کے مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔ مسٹر برلا نے کہا کہ چھتیس گڑھ قانون ساز اسمبلی کے اراکین کو ایسا برتاؤ کرنا چاہیے کہ یہ دوسری اسمبلیوں کے لیے ایک مثال بن جائے ۔قانون سازوں اور عوامی نمائندوں کے طور پر ااراکین اسمبلی کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ عوام کے مسائل کا اظہار کتنی وفاداری اور ایمانداری سے کرتے ہیں۔ انہوں نے اراکین کو مشورہ دیا کہ وہ لوگوں کے مسائل اور خدشات کو فعال اور پرزور طریقے پر بیان کریں اور ان کی فلاح و بہبود اور ریاست اور قوم کی ترقی کے لیے خود کو وقف کریں۔ لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ لوگوں کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ ان کے نمائندے ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لائیں گے اس لئے یہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی توقعات پر پورا اتریں اور انہیں پورا کرنے کے لیے پوری لگن کے ساتھ کام کریں۔ اس کے ساتھ ہی وہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت کریں۔مسٹر برلا نے کہا کہ زیادہ موثر قانون ساز بننے کے لیے انہیں متنوع موضوعات اور قواعد کا علم ہونا چاہیے ۔ مسٹر برلا نے کہا کہ اراکین کو ایوان میں زیادہ وقت گزارنا چاہئے اور دوسروں کے تجربے اور مہارت سے سیکھنا چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جتنا زیادہ سیکھیں گے ، اتنے ہی مؤثر طریقے سے وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں گے ۔












