صادق شروانی
نئی دہلی،سماج نیوز سروس:سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) نے آج بارہویں کلاس کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ دہلی کے اردو میڈیم اسکولوں کے رزلٹ کو ہولڈ پر رکھا گیا ہے۔ خاص طور پر اردو میڈیم کے ان اسکولوں کے نتائج جاری نہیں کئے گئے جن اسکولوں میں اردو میڈیم سے پڑھنے والے طلبا کے پاس مضمون کے طور پر جغرافیہ سبجیکٹ تھا۔سنٹرل بورڈ آف سیکنڈر ایجوکیشن سے مطابق اردو یڈیم سے پڑھنے والے طلبا جن کے پاس جغرافیہ مضمون ہے اس کی کاپی ابھی چیک نہیں ہوئی ہے۔ یعنی کہ جغرافیہ سبجیکٹ کی کاپیاں ابھی تک چیک نہیں ہو پائی ہیں۔ حالانکہ ہو سکتا ہے کہ رزلٹ دو دن بعد جاری کیا جائے۔ ایسا لگتا ہے کہ دہلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ اردو میڈیم اسکولوں کے نتائج کو ہولڈ کر دیا گیا ہو اور بقیہ تمام میڈیم کے اسکولوں کے نتائج جاری کر دئے گئے ہوں۔ یہ بھی سچائی ہے کہ ان اردو میڈیم اسکولوں کے دیگر طلبا کا رزلٹ جاری کر دیا گیا ہے جن کے پاس اردو میڈیم میں جغرافیہ سبجیکٹ نہیں ہے۔صرف اردو میڈیم اسکولوں کے نتائج میں گراوٹ نہیں دیکھی گئی ہے بلکہ ہندی میڈیم، اور انگلش میڈیم وغیرہ میں بھی نتائج میں گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ وہ چاہے پرائیویٹ اسکول ہوں یا سرکاری اسکول۔لڑکیوں کی کامیابی کا فیصد ہمیشہ لڑکوں سے بہتر رہتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے کامیابی کے فیصد میں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔واضح رہے کہ اس مرتبہ سی بی ایس ای دہلی کا رزلٹ میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ اس کے باوجود ہمیشہ کی طرح لڑکیوں نے کامیابی کے فیصد میں لڑکوں سے زیادہ کامیابی درج کرائی ہے۔ اس مرتبہ لڑکیوں نے 88.86فیصد کامیابی حاصل کی تو وہیں لڑکوں نے 82.13 فیصد ی کامیابی حاصل کی۔ جبکہ گذشتہ سال 2025 میں بیٹیوں کا فیصد 91.64اور بیٹوں کا 85.70 فیصد تھا۔دہلی کے چھ اردو میڈیم سینئرسیکنڈری اسکول ہیں جن کا رزلٹ ہولڈ پر ہے۔ اینگلو عربک سینئرسیکنڈری اسکول، شفیق میموریل سینئرسیکنڈر اسکول، فتح پوری سینئرسیکنڈری اسکول ، قومی سینئرسیکنڈر اسکول، ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سینئرسیکنڈری اسکول اور زینت محل سینئرسیکنڈری اسکول وغیرہ ہیں۔جن کا رزلٹ ہولڈ پر ہے۔حالانکہ ان اسکولوں کے نتائج گذشتہ سال کے مقابلے زیادہ اچھے نہیں ہیں اور ان کے نتائج میں گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دہلی کے ان سینئر سیکنڈری اردو میڈیم اسکولوں کی تقریباً جغرافیہ سبجیکٹ کی 200 کاپیاں ابھی چیک نہیں ہو سکی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان اسکولوں کے رزلٹ روک لئے گئے ہیں۔ سبی بی ایس ایس ویب سائٹ سے جاری کئے گئے رزلٹ میں ان اسکولوں کے جغرافیہ سبجیکٹ ہونے کی وجہ سے رزلٹ میں ہولڈ لکھا ہوا ہے۔امید کی جاتی ہے کہ یہ کاپیاں دو تین دن میں چیک ہوجائیں گی جس کے بعد رزلٹ جاری کر دیا جائے گا۔ ان اسکولوں میں زیر تعلیم طلبا جنہوں نے جغرافیہ سبجیکٹ کو اردو میڈیم سے امتحان میں شرکت کی ہے وہ بچے مایوس نظر آرہے ہیں۔ کیونکہ دہلی میں پڑھنے والے بارہویں کلاس میں پڑھنے طلبا کا رزلٹ آگیا ہے لیکن ابھی ان بچوں کا رزلٹ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رزلٹ میں گراوٹ کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس مرتبہ کمپیوٹر کے ذریعہ آن لائن کاپی چیک کی گئی ہیں۔ حالانکہ یہ سسٹم تعلیم ماہرین بہتر بتاتے ہیں اور اس سسٹم کو اچھا قرار دیا ہے۔ بھلے ہی اس سسٹم کے ذریعے نتائج میں گراوٹ دیکھی گئی ہو۔












