نئی دہلی ، ایجنسیاں:بیجنگ کی جانب سے بھارتی علاقوں کے لیے نئے اور فرضی ناموں کے استعمال کے بعد بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ ہندوستان نے چین کے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ اروناچل پردیش اور لداخ ملک کے اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ نے حال ہی میں اروناچل پردیش کو "جنگنان” کہا اور دعویٰ کیا کہ یہ خطہ چینی خودمختاری میں آتا ہے۔ بیجنگ نے کئی نئے انتظامی علاقے اور کاؤنٹیز بھی بنائے ہیں، جنہیں بھارت نے کارٹوگرافک جارحیت” قرار دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے چین کے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض نام بدلنے سے زمینی حقیقت نہیں بدلتی۔ وزارت نے دہرایا کہ اروناچل پردیش ہمیشہ سے ہندوستان کا اٹوٹ حصہ رہا ہے اور رہے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین کے اس طرح کے "گمراہ کن اور بے بنیاد” دعوے نہ صرف غلط ہیں بلکہ دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے یکطرفہ اقدامات کی کوئی قانونی یا جغرافیائی بنیاد نہیں ہے۔












