واشنگٹن(ہ س)۔امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے انکشاف کیا ہے کہ ایک چینی سائبر جاسوسی گروپ نے، جو سالٹ ٹائیفون” (Salt Typhoon) کے نام سے جانا جاتا ہے، کم از کم ایک امریکی ریاست کے نیشنل گارڈز کے نیٹ ورک کو ہدف بنایا اور اس میں تقریباً ایک سال تک دراندازی جاری رکھی۔ اس کے نتیجے میں فوجی یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حساس معلومات کے چوری ہونے کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ’ساولٹ ٹائیفون‘ کے ہیکر اس سے کہیں زیادہ گہرائی میں داخل ہو چکے ہیں جتنا پہلے سمجھا جا رہا تھا۔ وزارت داخلہ کی ایک خفیہ یادداشت کے مطابق، جس کی تاریخ جون 2024 ہے، یہ گروپ مارچ 2024 سے دسمبر 2024 کے درمیان ایک امریکی ریاست کی نیشنل گارڈ آرمی کے نیٹ ورک میں "وسیع پیمانے پر دراندازی” کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم، اس یادداشت میں متاثرہ ریاست کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔یہ رپورٹ امریکی قومی سلامتی سے متعلق شفافیت پر کام کرنے والے ایک غیر منافع بخش ادارے نے حاصل کی، جسے آزادی اطلاعات کے قانون” کے تحت دستاویز فراہم کی گئی تھی، اور اسے "این بی سی نیوز” نے جاری کیا۔امریکی وزارت دفاع نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، لیکن نیشنل گارڈ کے ترجمان نے اس دراندازی کی تصدیق کی، تاہم مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ سائبر حملہ نیشنل گارڈ کے کام کو متاثر نہیں کر سکا، اور اب بھی یہ جانچ جاری ہے کہ دراندازی کا دائرہ کس حد تک پھیلا ہوا ہے۔چینی سفارت خانے نے اس خبر کی تردید نہیں کی، مگر اس کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے چینی حکومت کے اس کارروائی میں ملوث ہونے کا کوئی "فیصلہ کن اور قابل اعتماد ثبوت” پیش نہیں کیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ "سائبر حملے تمام ممالک کو درپیش ایک مشترکہ خطرہ ہیں”۔واضح رہے کہ "سالٹ ٹائیفون” گروپ چین کے بڑے سائبر جاسوسی نیٹ ورک میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی صلاحیت ہے کہ وہ ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں بآسانی منتقل ہو سکتا ہے۔گزشتہ سال امریکی حکام نے انکشاف کیا تھا کہ اس گروہ نے ملک کی آٹھ بڑی انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کمپنیوں، جیسے AT&T اور Verizonکو ہدف بنایا، اور ان کی مدد سے وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اْن کی صدارتی انتخابی حریف کملا ہیرس کی انتخابی مہموں، نیز سینیٹ میں اْس وقت کے اکثریتی رہنما چَک شْومر کے دفتر کی کالوں اور مختصر تحریری پیغامات تک رسائی حاصل کر چکا تھا۔اگرچہ نیشنل گارڈ آرمی … وزارت دفاع کے تحت آتی ہے، لیکن اس کا انتظام ریاستی سطح پر بھی ہوتا ہے، اور کئی یونٹ مقامی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کرتے ہیں۔ یہ قریبی روابط ہیکروں کے لیے مزید اداروں تک رسائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔وزارت داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ یہ دراندازی بیجنگ کو ایسی معلومات فراہم کر سکتی ہے جو دیگر ریاستوں میں نیشنل گارڈ یونٹوں میں بھی دراندازی کے لیے استعمال کی جا سکیں۔یادداشت میں مزید بتایا گیا کہ امریکا کی 14 ریاستوں میں نیشنل گارڈ ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ” کے مراکز میں شراکت دار ہے۔ہیکرافراد ریاستی سطح پر جغرافیائی مقامات کے نقشوں، داخلی نیٹ ورکوں کی ترتیب سے متعلق خاکوں، اور نیشنل گارڈ کے اہل کاروں کی ذاتی معلومات تک بھی رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔جنوری 2025 میں امریکی محکمہ خزانہ نے سچوان کی ایک چینی کمپنی پر پابندیاں عائد کیں، جس پر الزام ہے کہ اس نے بیجنگ کی وزارتِ مملکت کی سلامتی کے لیے "سالٹ ٹائیفون” کی کارروائیوں میں مدد فراہم کی۔یہ سائبر حملے نہایت سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور ایک بار نیٹ ورک میں داخل ہونے کے بعد انھیں ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں، ’سالٹ ٹائیفون‘ کے ہیکر تین سال تک نیٹ ورکوں میں چھپے رہے۔












