نیویارک (ہ س)۔کولمبیا یونیورسٹی نے منگل کو کہا کہ وہ تقریباً 180 ملازمین کو فارغ کر دے گی۔ غزہ جنگ کے خلاف مین ہٹن کالج میں طلباء کے مظاہروں اور یہود دشمنی کی بنا پر صدر ٹرمپ نے یونیورسٹی کے لیے 400 ملین ڈالر کی فنڈنگ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے جواب میں عملے کی برطرفی کا اقدام کیا گیا ہے۔یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا، منگل کو ملازمت کی تجدید نہ ہونے یا برطرفی کے نوٹس وصول کرنے والے ملازمین تقریباً اس 20 فیصد میں شامل ہیں جنہیں کسی نہ کسی طرح معطل شدہ وفاقی گرانٹس سے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔یونیورسٹی نے کہا، "ہمیں اپنے مالی وسائل کی تقسیم کے بارے میں دانستہ اور غور و خوض کے بعد فیصلے کرنے پڑے ہیں۔ یہ فیصلے ہمارے سب سے بڑے وسائل یعنی ہمارے لوگوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ خبر مشکل ہو گی۔انہوں نے کہا، حکام فنڈنگ بحال کرنے کی امید پر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن بجٹ کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال اور دباؤ کی وجہ سے یونیورسٹی پھر بھی اپنے اخراجات میں کمی کرے گی۔حکام نے کہا کہ یونیورسٹی تحقیقی سرگرمیوں میں کمی کرے گی۔ اس حوالے سے بعض شعبے سرگرمیاں ختم کر دیں گے اور دیگر شعبے متبادل فنڈنگ کے ساتھ کسی درجے کی تحقیق جاری رکھیں گے۔مارچ میں ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں آئیوی لیگ کے سکول کی یہود دشمنی پر قابو پانے میں ناکامی کو بنیاد بنا کر فنڈنگ معطل کر دی تھی۔چند ہفتوں کے اندر کولمبیا نے ریپبلکن انتظامیہ کے پیش کردہ مطالبات تسلیم کر لیے جو فنڈنگ کی بحالی کا نکت آغاز تھا۔ان مطالبات میں شامل ہیں: یونیورسٹی کے طلباء کے تادیبی عمل کو از سرِ نو ترتیب دینا، کیمپس کے مظاہرین کے ماسک پہننے پر پابندی، تعلیمی عمارات میں مظاہروں پر پابندی، یہود دشمنی کی نئی تعریف اپنانا اور شرقِ اوسط کے مطالعاتی پروگرام کو نائب منتظم کی نگرانی میں رکھنا جو نصاب اور ملازمت پر اپنی رائے رکھتا ہو۔کولمبیا کی جانب سے تبدیلیوں کے اعلان کے بعد امریکی وزیرِ تعلیم لنڈا میک موہن نے کہا، یونیورسٹی ’درست راستے پر‘گامزن ہے لیکن یہ بتانے سے انکار کیا کہ کولمبیا کی فنڈنگ کب بحال کی جائے گی۔ وفاقی محکمہ تعلیم کے ترجمانوں نے منگل کو تبصرے کے لیے کی گئی ای میل کا فوری جواب نہیں دیا۔کولمبیا یونیورسٹی گذشتہ موسمِ بہار میں غزہ جنگ کے خلاف امریکی کیمپسز کے احتجاج میں پیش پیش تھی۔ مظاہروں کے نتیجے میں درجنوں گرفتاریاں ہوئیں اور قومی سطح پر اسی طرح کے مظاہروں کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی۔ٹرمپ نے جنوری میں دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد ان تعلیمی اداروں کی وفاقی اعانت میں تیزی سے کٹوتی کی جنہیں وہ یہود دشمنی کے لیے بہت زیادہ متحمل اور روادار سمجھتے تھے۔












