کولکاتا: 29 دسمبر /سماج نیوز سروس۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت کے خلاف بنائے گئے اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ میں بائیں بازو کی جماعتیں اگرچہ قومی سطح پرمیں شامل ہیں، لیکن وہ بنگال میں اس اتحاد کا حصہ نہیں ہوں گی۔ یہاں تک کہ پارٹی نے کانگریس کا بھی ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کی وجہ ترنمول کی سیاسی مخالفت ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کانگریس نے ترنمول کی شرائط پر لوک سبھا انتخابات کے لئے اتحاد کا معاہدہ کیا ہے اور اسی وجہ سے سی پی آئی (ایم) کو ترجیح نہیں دی جارہی ہے۔پارٹی کے جنرل سکریٹری محمد سلیم نے کہا، ‘ہم ان لوگوں کے ساتھ اتحاد کریں گے جن کا بی جے پی اور ترنمول سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی اور ترنمول کے خلاف نرم رویہ اختیار کرنے والوں سے ہم سینکڑوں اور ہزاروں میل دور کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دو کشتیوں پر سوار نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے ایک بار پھر بی جے پی اور ترنمول کی ملی بھگت کا الزام لگایا اور کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بدعنوانی، ناانصافی، فرقہ پرستی کے سوال پر ان کی پالیسی اور سیاسی پوزیشن ایک جیسی ہے۔ دونوں آر ایس ایس کےذریعہ چلائی جانے والی تنظیمیں ہیں۔
ترنمول کے ساتھ کانگریس کے اتحاد پر سلیم نے کہا،’کانگریس خود اپنا فیصلہ کرے گی لیکن میں بنگال کے کانگریس لیڈروں-کارکنوں-حامیوں سے کہوں گا- کچھ دیکھ کر سیکھتے ہیں، کچھ ٹھوکر کھا کر سیکھتے ہیں۔ بنگال کانگریس کو ناکامیوں سے سبق سیکھنا چاہیے”۔












