• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, جنوری 16, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

مناظرہ یا مکالمہ؟ اسلامی روایات، سوشل میڈیا اور ہندوستانی سماج

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 29, 2025
0 0
A A
مناظرہ یا مکالمہ؟ اسلامی روایات، سوشل میڈیا اور ہندوستانی سماج
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام نے انسان کو عقل و شعور عطا کر کے اسے غور و فکر، سوال اور جستجو کی دعوت دی ہے، مگر ساتھ ہی گفتگو اور اختلاف کے لیے اخلاق، حکمت اور حسن اسلوب کو لازم قرار دیا ہے۔ اسی متوازن تصور کے تحت اسلام میں مناظرہ محض بحث و تکرار یا فکری سفر کا نام نہیں ہے بلکہ یہ حق کی توضیح، ابطال باطل اور انسانی فکری رہنمائی کا ایک منظم علمی طریقہ ہے۔ قرآن کریم نے اختلاف اور دعوت کے اصول حکمت، موعظہ حسنہ اور احسن اسلوب کے ساتھ بیان کیے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں مقصد محض بات منوانا نہیں بلکہ دل اور ذہن دونوں کو مخاطب کرنا ہے۔ اسلامی تاریخ میں مناظرے اسی روح کے ساتھ اصلاح، دعوت اور علمی وضاحت کے لیے کیے گئے ہیں لیکن جب اس روایت کو اس کے اصل اخلاقی اور دعوتی مقصد سے ہٹا دیا جائے تو یہی مناظرہ فساد، انتشار اور فکری بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے۔
ابتدائی دوراسلامی میں مناظرے زیادہ تر خدا کے وجود، توحید، نبوت اور آخرت جیسے بنیادی عقائد کے گرد ہوتے تھے، جن میں سادگی، فطری استدلال اور اخلاص نمایاں ہوتا تھا۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ کا ’’دہریوں‘‘سے مناظرہ اس کی روشن مثال ہے جہاں پیچیدہ فلسفیانہ بحث کے بجائے عام فہم عقلی دلائل سے خدا کے وجود کو واضح کیا گیاتھا۔ان مناظروں کا مقصد کسی کو شکست دینا نہیں بلکہ فکری قناعت اور حق کی طرف رہنمائی تھا۔ اسی لیے اسلامی علمی روایت میں مناظرے کو کبھی مقصدِ بذاتِ خود نہیں سمجھا گیا بلکہ ایک محدود، مشروط اور نازک ذریعہ مانا گیا، جسے ضرورت، مناسب ماحول اور اخلاقی حدود کے اندر استعمال کیا جاتا تھا۔
برصغیر ہند و پاک میں مناظرے کا رواج خاص طور پر استعمار کے دور میں بڑھا، جب مسلم علماء کو عیسائی مشنری سرگرمیوں، ہندو فکری تحریکوں اور ملحدانہ افکار کا سامنا تھا۔ اس دور میں مناظرے ایک دفاعی ضرورت کے طور پر سامنے آئے، جن کا مقصد اسلام کا دفاع، مسلمانوں کے عقیدے کا تحفظ اور فکری اعتماد کی بحالی تھا، اور ان میں علمی تیاری اور سنجیدگی نمایاں تھی۔ تاہم یہ مناظرے ایک مخصوص تاریخی پس منظر کی پیداوار تھے، اس لیے انہیں ہر دور اور ہر سماجی ماحول کے لیے یکساں مؤثر سمجھنا درست نہیں ہے۔آج کے ہندوستانی حالات دعوت کے اسالیب پر سنجیدہ نظرِ ثانی کا تقاضا کرتے ہیں۔
عصرِ حاضر میں مناظرے کی نوعیت میں جو بنیادی تبدیلی آئی ہے وہ محض ذریعہ ابلاغ کی تبدیلی نہیں بلکہ فکری اور تہذیبی سطح پر ایک گہرا انقلاب ہے۔ ماضی میں مناظرے محدود علمی حلقوں، مدارس، یا سنجیدہ مجالس میں ہوتے تھے، جہاں سامعین بھی علمی پس منظر رکھتے تھے اور گفتگو کا معیار استدلال، حوالہ اور ضبط نفس پر قائم رہتا تھا۔ آج سوشل میڈیا کے بڑھتے رواج نے اس روایت کو یکسر بدل دیا ہے اور مناظرے کو ایک ایسے عوامی اسٹیج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں گفتگو کی قدر دلیل کی مضبوطی سے نہیں بلکہ اس کی وائرل صلاحیت سے طے ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا مزاج فطری طور پر سنجیدہ علمی مباحث کے خلاف ہے۔ یہاں بات کو مختصر، تیز اور جذباتی کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ توجہ کھینچ سکے۔ جس کے نتیجے میں عقائد، فلسفہ اور کلام جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی اصل معنویت کھو بیٹھتے ہیں۔ مناظرے کے طویل اور متوازن دلائل چند سیکنڈ کے کلپس میں بدل جاتے ہیں، جن میں نہ سیاق باقی رہتا ہے اور نہ فہم کی گنجائش۔
سوشل میڈیا نے مناظرے کو ایک مقابلے میں بھی تبدیل کر دیا ہے، جہاں اصل فریقین سے زیادہ ان کے حمایتی سرگرم ہو جاتے ہیں۔ گفتگو ختم ہونے کے بعد تبصروں، پوسٹس اور ردِعمل کی ایک طویل جنگ شروع ہو جاتی ہے، جس میں دلیل کے بجائے جذبات، طنز اور تحقیر غالب آجاتی ہے۔ اس طرح مناظرہ ایک وقتی گفتگو نہیں رہتا بلکہ ایک مسلسل تنازع کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ہندوستان جیسے حساس اور کثیر مذہبی سماج میں یہ صورتِ حال اور بھی زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔ یہاں مذہبی گفتگو محض نظریاتی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی امن اور باہمی اعتماد سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسے ماحول میں سوشل میڈیا پر ہونے والے مناظرے اکثر اصلاح کے بجائے پولرائزیشن، بداعتمادی اور سماجی کشیدگی کو بڑھاتے ہیں، جس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
’’وجودِ خدا ‘‘پر مفتی شمائل ندوی و مشہور شاعر و اداکار جاوید اختر کے مابین حالیہ مناظرہ بظاہر ایک فکری سرگرمی کے طور پر پیش کیا گیاہے مگر اس کے بعد سامنے آنے والے اثرات نے اس کی افادیت کو شدید مشکوک بنا دیا ہے۔ مناظرے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر جو بحث چھڑی، اس میں علمی استدلال کے بجائے گروہی وابستگی اور جذباتی دفاع نمایاں نظر آیا ہے۔ گفتگو کا رخ اصل سوال سے ہٹ کر اس بات پر مرکوز ہو گیا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟اور یوں فہم کے بجائے مقابلے کی فضا پیدا ہو گئی۔اس مناظرے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ تھا کہ اس نے ادارہ جاتی بحث اور ادارہ جاتی نفرت کو جنم دیا۔ افراد کے بجائے پورے علمی اداروں کو نشانہ بنایا جانے لگا، اور دینی روایتوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کر دیا گیا۔ ایسے جملے اور تبصرے عام ہوئے جو نہ صرف غیر علمی بلکہ غیر اخلاقی بھی تھے، جیسے یہ کہنا کہ ’’ایک ندوی ہزار قاسمیوں پر بھاری ہے‘‘۔اس طرح کے تبصرے علمی اختلاف نہیں بلکہ اداروں کی تحقیر اور علمی روایت کی تذلیل ہیں۔
نفسیاتی اور سماجی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ مناظرات سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ مدمقابل میں اور زیادہ ضد اور ہٹ دھرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ جب کسی فرد یا ادارے کو عوام کے سامنے نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے تو وہ دفاعی رویہ اختیار کر لیتا ہے اور حق سننے کے بجائے اپنی شناخت کے تحفظ میں لگ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مناظرے کے بعد فکری قربت کے بجائے فکری فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اس مناظرے کے بعد سوشل میڈیا پر تفرقی منافرت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور معاملہ ایک مقامی بحث کے بجائے عالمی سطح کے لفظی تصادم میں بدل گیا۔ مختلف ممالک، زبانوں اور گروہوں کے لوگ اس میں شامل ہو گئے، اور یوں ایک محدود فکری موضوع ایک ’’عالمی جنگ‘‘ جیسی کیفیت اختیار کر گیاہے۔ موجودہ حالات میں یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ہمارے وطنِ عزیز میں اس طرح کے عوامی مناظروں کا حاصل فائدے کے بجائے نقصان ہی ہے۔
اختلافِ رائے انسانی فطرت کا لازمی حصہ ہے اور فکری ترقی کے لیے ناگزیر بھی ہے مگر اسلام اختلاف کے ساتھ اخلاق، انصاف اور شائستگی کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔ قرآن و سنت کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اختلاف کو کبھی تضحیک، تحقیر یا تمسخر کا ذریعہ نہیں بنایا گیاہے، بلکہ دلیل کا جواب دلیل سے دیا گیا اور شخصیت کے بجائے موقف پر گفتگو کی گئی ہے۔ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی اور تاریخی طور پر حساس معاشرے میں اختلافِ رائے کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں ایک غیر محتاط جملہ یا اشتعال انگیز تبصرہ محض فکری اختلاف تک محدود نہیں رہتا بلکہ سماجی سطح پر خوف، بداعتمادی اور کشیدگی کو جنم دیتا ہے۔ اس لیے یہاں اختلاف کو سنبھالنے کے لیے غیر معمولی حکمت، ضبط اور اخلاقی بلوغت درکار ہے۔
بدقسمتی سے موجودہ دور میں اختلاف کو انا اور دشمنی میں بدل دیا گیا ہے، اور سوشل میڈیا نے اس رجحان کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ دلیل کے بجائے شخصیات اور اداروں پر حملے کیے جاتے ہیں، جس سے اختلاف اصلاح کے بجائے فساد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ دین کے حق میں ہے اور نہ سماج کے۔اسی پس منظر میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ عقائد سے متعلق حساس موضوعات پر کھلے عام اور لائیو مناظرے موجودہ حالات میں دانش مندی نہیں۔ زیادہ مناسب راستہ یہ ہے کہ اختلاف کو بند کمروں، محدود علمی حلقوں اور سنجیدہ مکالمے تک محدود رکھا جائے، تاکہ فہم پیدا ہو اور سماجی نقصان سے بچا جا سکے۔
مناظرہ اپنی اصل میں ایک غیر جانب دار علمی عمل ہے، مگر اس کی قدر و افادیت مناظر کی نیت اور اسلوب سے طے ہوتی ہے۔ اگر مناظرہ اخلاص، خیر خواہی اور اصلاح کے جذبے سے کیا جائے تو یہ فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس میں شہرت، فیم اور ذاتی برتری شامل ہو جائے تو یہی عمل دعوت کے لیے نقصان دہ بن جاتا ہے۔آج کے دور میں مناظرے کو اکثر ذاتی کامیابی اور عوامی مقبولیت کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے۔ ایسے جملے عام ہو گئے ہیں کہ’’ہم نے مخالف کو ہرا دیا‘‘ یا ’’وہ کانپنے لگا‘‘۔ یہ طرزِ فکر دعوت کی روح کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ دعوت کا مقصد مخاطب کو مغلوب کرنا نہیں بلکہ اس کے دل و ذہن تک رسائی حاصل کرنا ہے۔یہ ذمہ داری صرف مناظر تک محدود نہیں بلکہ ان کے حمایتیوں، ساتھیوں اور فالوورز پر بھی عائد ہوتی ہے۔ جب سوشل میڈیا پر فتح اور شکست کے بیانیے بننے لگتے ہیں تو اصل مقصد پسِ پشت چلا جاتا ہے اور مناظرے کے بعد نفرت، تمسخر اور ادارہ جاتی تقسیم میں اضافہ ہوتا ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    جنوری 16, 2026
    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    جنوری 16, 2026
    انڈیا اوپن: بیڈمنٹن کورٹ سے ہندوستان کے لیے مایوس کن خبریں، ایچ ایس پرنئے اور کدامبی سری کانت باہر

    انڈیا اوپن: بیڈمنٹن کورٹ سے ہندوستان کے لیے مایوس کن خبریں، ایچ ایس پرنئے اور کدامبی سری کانت باہر

    جنوری 16, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کو بڑا دھچکا: مارکس اسٹوئنس انجری کے باعث میدان سے باہر

    ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کو بڑا دھچکا: مارکس اسٹوئنس انجری کے باعث میدان سے باہر

    جنوری 16, 2026
    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    جنوری 16, 2026
    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    جنوری 16, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist