نئی دہلی پریس ریلیز،ہمارا سماج:سندر نرسری جو اپنی صاف ستھری آب و ہوا کی وجہ سے پوری دہلی والوں کے لیے بچوں کے ساتھ وقت گزاری کے لیے مشہور ہے لیکن ابھی چار دنوں بائیس تا پچیس فروری کے لیے یہ خوبصورت باغ اردو زبان و ادب کی پیشکش کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ جس میں موسیقی ، غزل سرائی ، بیت بازی قوالی اور ادبی مباحث کے پروگرام پیش کیے جارہے ہیں ۔ دوسرے دن مہمان خصوصی وزیر برائے فن و ثقافت و السنہ دہلی حکومت جنا ب سوربھ بھاردواج نے خوبصورت گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ، دہلی کتنی بار اجڑی اور آباد ہوئی اس کے بارے میں تو نہیں پتہ کیونکہ تاریخ داں تو سات بار لکھتے ہیںلیکن باقیات بہتوں کے مل جاتے ہیں ، دہلی حکومت نے سبھی کے تاریخی باقیات کو دوبارہ سنوارنے کی کوشش کی ہے اور ان تمام مقامات میں عوام کی دلچسپی کے لیے ہیریٹیج واک کا بھی اہتمام کیا ہے ۔ کیونکہ جس نے بھی دلی میں راج کیا اس نے پورے ملک میں راج کیا اور راج کرنا دلوں میں راج کرنا ہوتا ہے ۔ دہلی حکومت لگاتار ثقافتی پروگرام کرتی رہتی ہے ، آپ تمام حاضرین سے گزراش ہے کہ ان ثقافتی پروگراموں میں اپنی حاضری کو اپنے اپنے سوشل میڈیا پیچ میں ضرور اپلوڈ کریں ۔پھر وزیرمحتر نے سبھی فنکاروں کا مومنٹوپیش کرکے استقبال کیا ۔ دوسرے دن کا سورج نصف النہار کو پہنچا تو بیت بازی سے پرو گرام شروعہوا ۔ اس بیت بازی کے مقابلے میں دہلی کی تینوں یونیورسٹیوں او رکالجوں سے کل نو ٹیموں نے شرکت کی ۔ شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ ، شعبہ اردو دہلی یونی و رسٹی ، دیال سنگھ کالج مارننگ ، ذاکر حسین کالج ایوننگ ، ذاکر حسین کالج مارننگ ، سینٹ اسٹیفن کالج ، شعبہ اردو جواہر لال نہرویونی و رسٹی اور شعبہ عربی جواہر لال یونی ورسٹی کی ٹیموں نے شرکت کی ۔ اول انعام شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دوم انعام شعبہ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ اورسوم انعام ذاکر حسین دلی کالج ایوننگ اور شعبہ عربی جے این یو کی ٹیمیں مستحق قرار پائیں جبکہ حوصلہ افزا انعام ذاکر حسین دلی کالج مارننگ کو ملا۔ اس پروگرام میں جج کے فرائض ڈاکٹر واحد نظیر اور معروف شاعر شکیل جمالی نے انجام دیے ۔ شکیل جمالی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اشعار میں عصر حاضر کی نمائندگی نظر نہیں آئی طلبہ بیت بازی میں جدید شعرا کے اشعار کو بھی اپنی زنبیل میں رکھیں ۔












