نئی دہلی، (یو این آئی) اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کے حق میں ایک بار پھر راجیہ سبھا میں باضابطہ پہل کی ہے۔اپوزیشن کے 73 ارکانِ پارلیمنٹ نے راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل کو ایک تحریک کا نوٹس سونپا ہے، جس میں ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس کانگریس کے سینئر لیڈر اور انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش اور ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ ساگریکا گھوش نے پیش کیا ہے۔ فی الحال یہ تحریک صرف راجیہ سبھا میں ہی داخل کی گئی ہے۔مسٹر رمیش نے معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس تحریک میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کل نو سنگین الزامات لگائے گئے ہیں، جن کی تفصیلات دستاویزات کے ساتھ فراہم کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ الزامات 15 مارچ 2026 کے بعد کیے گئے کاموں اور کوتاہیوں سے متعلق ہیں، جنہیں آئین کے آرٹیکل (5)324 اور آرٹیکل (4)124 کے تحت ثابت شدہ بدانتظامی” قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تحریک "چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، سروس کی شرائط اور مدتِ کار) ایکٹ 2023اور "ججز (انکوائری) ایکٹ 1968کی دفعات کے تحت لائی گئی ہے۔مسٹر رمیش نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر برقرار رہنے کو آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال جمہوری اداروں کے وقار کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر حکومت کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ اب اس نوٹس پر اگلی کارروائی راجیہ سبھا کے چیئرمین کے فیصلے پر منحصر ہوگی، جو یہ طے کریں گے کہ اس تحریک کو قبول کیا جائے یا نہیں۔












