حیدرآباد، (یو این آئی): سن رائزرز حیدرآباد نے ٹاٹا آئی پی ایل 2026 میں دہلی کیپیٹلز پر 47 رنز کی شاندار فتح درج کی اور پوائنٹس ٹیبل میں تیسرے مقام پر پہنچ گئی۔ جیو ہاٹ اسٹار کے پروگرام ’گوگل سرچ اے آئی موڈ میچ سینٹر لائیو‘ اور اسٹار اسپورٹس کے ’امول کرکٹ لائیو‘ پر گفتگو کرتے ہوئے جیو اسٹار کے ماہرین ہربھجن سنگھ، سنجے بانگر اور آدتیہ تارے نے کشن کی کپتانی کی جم کر تعریف کی اور ممبئی انڈینز کے خلاف ایم ایس دھونی کی ممکنہ واپسی پر تبادلہ خیال کیا۔سنجے بانگر نے ایشان کشن کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا، "ایک لیڈر کے طور پر ایشان کشن اپنی گیند بازی میں تبدیلیوں کے حوالے سے حکمت عملی کے طور پر بہت بہتر ثابت ہو رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کس بلے باز کے خلاف کس گیند باز کا استعمال کرنا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ میچ کو کتنی اچھی طرح کنٹرول کرتے ہیں۔ وہ میدان پر گھبرائے ہوئے نظر نہیں آتے اور درست فیصلے لیتے ہیں۔ ڈی سی کے خلاف جس طرح انہوں نے اپنے اسپنرز کا استعمال کیا وہ قابلِ ستائش تھا۔ مجموعی طور پر میرا ماننا ہے کہ اگر پیٹ کمنز واپس بھی آ جاتے ہیں، تب بھی ایس آر ایچ کی کپتانی ایشان کشن کو ہی کرنی چاہیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہندوستانی کپتان ہونے سے ٹیم میں استحکام آتا ہے۔ آپ اس بات کو یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ پیٹ کمنز جیسے گیند باز آئی پی ایل کے بقیہ میچوں میں کتنے فٹ رہیں گے، خاص طور پر ان چھوٹی موٹی چوٹوں کو دیکھتے ہوئے جن سے وہ جوجھ رہے ہیں۔ ایشان کے کپتانی جاری رکھنے سے کھلاڑیوں کو یکسانیت ملتی ہے، حیدرآباد کے لیے یہی بہترین راستہ ہو گا۔”آدتیہ تارے نے ہینرک کلاسن کے اثر اور ایس آر ایچ کے بیٹنگ آرڈر کی طاقت کی تعریف کرتے ہوئے کہا: "ہینرک کلاسن نے ایک بار پھر بلے سے کمال دکھایا۔ اس سیزن کی تقریباً تمام اننگز میں انہوں نے 30 سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ دہلی کے خلاف انہیں زیادہ اوورز نہیں ملے، لیکن پھر بھی 13 گیندوں پر 37 رنز بنا کر اور آخر تک ناٹ آؤٹ رہ کر انہوں نے جو اثر چھوڑا وہ لاجواب ہے۔ ابھیشیک شرما، ٹریوس ہیڈ، ایشان کشن اور ہینرک کلاسن کا بیٹنگ یونٹ اس لیگ کے بہترین یونٹس میں سے ایک ہے، کیونکہ جب یہ لوگ ہٹنگ شروع کرتے ہیں تو گیند بازوں کو کچھ سمجھ نہیں آتا۔”ممبئی انڈینز کے خلاف سی ایس کے کے میچ سے قبل نیٹ پریکٹس کے دوران ایم ایس دھونی کی وکٹ کیپنگ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "میں پریکٹس سیشن دیکھ رہا تھا اور جس بات نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ ماہی بھائی کا وکٹ کیپنگ کرنا تھا۔ میں نے اس سے پہلے کسی بھی نیٹ سیشن میں انہیں وکٹ کیپنگ کے دستانے پہنے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ عموماً صرف بلے بازی یا گیند بازی ہی کرتے ہیں۔ لیکن اس بار انہوں نے ہیلمٹ، پیڈز اور گلووز پہن رکھے تھے۔ شاید وہ اپنی پنڈلی کی چوٹ کے بعد اپنی میچ فٹنس کو پرکھ رہے ہیں۔ یہ ایک اچھا اشارہ ہے اور اگر وہ ممبئی انڈینز کے خلاف واپسی کرتے ہیں تو یہ واقعی بہت خاص ہو گا۔”












