مظفر پور/ پریس ریلیز: زمین محض ہمارا مسکن نہیں بلکہ تمام تر زندگیوں کی بنیاد ہے، جس کی حفاظت اور قدرتی وسائل کا تحفظ دورِ حاضر کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں اگر ہم نے اپنے طرزِ زندگی میں بہتری نہیں لائی، تو آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند ماحول کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ان خیالات کا اظہار نیتیشور کالج، مظفرپور کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) پرمود کمار نے ’عالمی یومِ ارض‘ کے موقع پر شعبہ جغرافیہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔بطور مہمانِ خصوصی بی آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی کے شعبہ جغرافیہ کے سابق صدر پروفیسر آر پی یادو نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ’گلوبل وارمنگ‘ ہمارے وجود کے لیے خطرہ بن چکی ہے، جسے صرف وسیع پیمانے پر شجرکاری اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھ کر ہی روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ زمین کو بچانے کی ذمہ داری صرف حکومتوں کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ہے۔اسی سلسلے میں کنور سنگھ کالج (ایل این ایم یو، دربھنگہ) کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ابھے کمار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی یومِ ارض منانے کا حقیقی مقصد تب ہی حاصل ہوگا جب ہم فطرت کے تئیں حساس بنیں اور اپنی روزمرہ زندگی میں ماحول دوست متبادل کا انتخاب کریں۔ انگریزی شعبہ کے ڈاکٹر جیوتی نارائن سنگھ نے بھی موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔پروگرام کا آغاز روایتی شمع فروزی سے ہوا۔ شعبہ جغرافیہ کے استاد اور سمینار کے کنوینرڈاکٹر حسین دلشی نے موضوع کا تعارف پیش کیا، جبکہ نظامت کے فرائض شعبہ تاریخ کی ڈاکٹر رینا نے انجام دیے۔ آخر میں شعبہ اردو کے صدر کامران غنی صبا نے شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ ہر سال 22 اپریل کو منایا جانے والا عالمی یومِ ارض پوری دنیا کو ماحولیاتی تحفظ کے تئیں بیدار کرنے اور زمین کے ایکولوجیکل سسٹم کو بچانے کا ایک اہم عالمی پیغام ہے۔سیمینار میں ڈاکٹر امرجیت سنگھ، ڈاکٹر روی رنجن، ڈاکٹر کسلے کشور، ڈاکٹر بے بی کماری، ڈاکٹر اجے تلی، ششی کمار پاسوان، ڈاکٹر پوجا گپتا، ڈاکٹر پنکج کمار، ڈاکٹر سریندر کمار رام، ڈاکٹر رادھا رانی، ڈاکٹر نوتن، ڈاکٹر سمترا کماری، ڈاکٹر سجاتا کماری، ڈاکٹر ساوتری کماری، ڈاکٹر پروال، ڈاکٹر ریتامبھرا، ڈاکٹر منٹو کماری، ڈاکٹر اجیت کمار، ڈاکٹر اپورو کمار، ڈاکٹر شیام کمار تیواری، ڈاکٹر دیویا انشو، ڈاکٹر پرکاش کیشو سمیت اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔












