اسلام آباد :پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کے تین دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے۔ سیلاب کے دوران 28 ہزار سے زائد لوگوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے دو جوان جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوان اور افسران مشکل کی اس گھڑی میں قوم کے ساتھ موجود ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی ہدایت پر پاک فوج تمام متاثرہ علاقوں میں ریسکیو سرگرمیوں میں مصروف ہے، امدادی کارروائیوں کے درمیان اب تک پاک فوج کے دو جوان شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرتارپور میں کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن جاری ہے، قراقرم ہائی وے کو کھول دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایک انجینیئرنگ برگیڈ اور 30 یونٹس فلڈ ریلیف آپریشنز میں مصروف ہیں، جن میں 19 انفینٹری اور سات انجینیئر یونٹس شامل ہیں جو سڑکوں اور پلوں کی بحالی پر بھی کام کر رہی ہیں۔چار میڈیکل یونٹس متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں، جبکہ اب تک 28 ہزار سے زائد لوگوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور 225 ٹن راشن تقسیم کیا جا چکا ہے۔اس سے قبل ڈیڑھ لاکھ افراد کو سیلاب کے خطرے کے پیش نظر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں جب سے سیلاب آیا ہے اور کل رات سے پنجاب میں بھی صورتحال ہے، اس پر وزیراعظم اور آرمی چیف کی ہدایت پر تمام متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ خراب موسمی حالات کے باوجود پاکستان آرمی نے تین بڑے پل جن میں دو خیبرپختونخوا اور ایک گلگت بلتستان میں تھا، اس کا مرمتی کام مکمل کرلیا گیا ہے، شاہراہ قراقرم کھول دی گئی ہے، جب کہ آرمی انجینیئرز نے سول انتظامیہ کے ساتھ ملکر 104روڈ مکمل طور پر کلیئر کرلی گئی ہیں، امدادی کارروائیوں کے دوران پاک فوج کے دو جوان شہید اور دو زخمی ہوئے۔
پاکستان فوج کے ترجمان ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں 29 آرمی میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں اب تک 20 ہزار 788 مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال کے باوجود ہماری ورکنگ باؤنڈری اور بارڈر ہے، وہاں پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور پاکستان کے عظیم وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی پوسٹ کو خالی نہیں کیا گیا۔’مشکل حالات اور بارشوں کے باوجود سرحدی نگرانی متاثر نہیں ہوئی، حالانکہ دو اہلکار اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے خلاف بھی متوازی طور پر کارروئیوں میں مصروف ہیں تاکہ فوج کی امدادی کارروئیوں میں شرکت کے باعث کوئی فائدہ نہ اٹھائے۔‘انہوں نے کہا کہ ان امدادی کاموں کے علاوہ فوج، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خیبرپختونخوا میں مکمل طور پر خارجیوں اور دہشت گردوں کے خلاف امن قائم کرنے کے لیے آپریشن اسی طرح جاری ہیں، اس میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی تاکہ وہ ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا کی عوام مشکل میں ہے تو وہ کسی قسم کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حالت جنگ ہو یا امن، پاک فوج عوام کے ساتھ ہے، چاہے وہ پاکستان کے کسی بھی کونے میں ہوں، عوام اور پاکستانی فوج اکھٹے تھے، ہیں اور رہیں گے، ان کے درمیان کوئی بھی باطل قوت دراڑ نہیں ڈال سکتی۔ادھر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے بتایا کہ ملک میں مون سون کا آٹھواں اسپیل جاری ہے۔












