واشنگٹن(ہ س)۔امریکی وزارتِ دفاع کی خفیہ ایجنسی، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے)، کی ابتدائی رپورٹ میں اس بات کی نشان دہی کیے جانے کے بعد کہ ہفتے کے روز کی امریکی بم باری سے ایران کی تین مرکزی جوہری تنصیبات … فردو، نطنز اور اصفہان … مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں، اس رپورٹ پر خاصا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ایسے میں نئی سیٹلائٹ تصاویر نے ان حملوں سے ہونے والے نقصانات کی نوعیت کو ظاہر کیا ہے۔اس حوالے سے ’میکسر ٹیکنالوجیز‘ کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی ان تصاویر میں 22 جون کو امریکی فضائی حملوں کے بعد تینوں جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کو دکھایا گیا۔ کمپنی کے مطابق، فردو میں یورینیم افزودگی کے مقام پر لی گئی تصاویر میں سرنگوں کے داخلی راستوں کی طرف جانے والی سڑکوں پر بم باری کے نتیجے میں پڑنے والے گڑھے نمایاں ہیں۔اسی طرح 24 جون کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں وسطی ایران میں واقع نطنز کی زیرِ زمین سینٹری فیوج ہالز پر حملوں سے بننے والے گڑھوں کو مٹی سے بھرا ہوا اور ڈھکا ہوا دکھایا گیا ہے۔ مزید برآں، اصفہان میں واقع افزودگی کی تنصیب کے داخلی راستوں کی 20 جون اور پھر 22 جون کی تصاویر کے درمیان واضح فرق نظر آتا ہے، جہاں فضائی حملوں سے دروازوں کو نقصان پہنچا۔اس سب کے دوران معروف برطانوی خبر رساں ایجنسی کو تین با خبر ذرائع نے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس کا ابتدائی تخمینہ یہ ہے کہ ان حملوں سے ایران کے جوہری پروگرام میں صرف چند ماہ کی تاخیر آئی ہے، مکمل تباہی نہیں۔دو ذرائع، جنھوں نے رازداری کی شرط پر بات کی، ان کے مطابق یہ ابتدائی رپورٹ ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی نے تیار کی، جو امریکی وزارتِ دفاع کی مرکزی خفیہ شاخ ہے، اور 18 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔ایک ذریعے کے مطابق یہ تشخیص امریکی حکومت میں بڑے اختلافات کا سبب بنی، کیونکہ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام، جیسے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، کے بیانات کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کے آغاز میں کیے گئے حملوں، جن میں خندق شکن بموں اور روایتی اسلحے کا امتزاج استعمال کیا گیا، نے ایران کے جوہری پروگرام کی بنیادیں ’مکمل طور پر تباہ کر دی ہیں‘۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ حملے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے ضروری تھے اور جوہری تنصیبات کو ’مکمل اور قطعی طور پر ختم کر دیا گیا‘۔ اتوار کو وزیر دفاع ہیگسیتھ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں نے ’ایران کی جوہری امنگوں کو مٹا دیا ہے‘۔تاہم، فردو، نطنز اور اصفہان میں ہونے والے حقیقی نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانا ایک مشکل عمل ہو گا، اور ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی اس کام کی واحد ذمہ دار ایجنسی نہیں ہے۔ ایک اور امریکی اہل کار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کہا کہ فی الحال امریکہ کو مکمل اندازہ نہیں کہ نقصان کس حد تک ہوا ہے۔ان ذرائع میں سے ایک نے مزید بتایا کہ ایران میں موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر تباہ نہیں کیے گئے، اور ممکنہ طور پر ایرانی جوہری پروگرام کو صرف ایک یا دو ماہ کی تاخیر کا سامنا ہے۔












