پیرس(ہ س)۔فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری پروگرام پر کیے گئے حملوں کے بعد "بد ترین منظرنامہ” یہ ہو سکتا ہے کہ تہران جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی ممانعت سے متعلق معاہدے (این پی ٹی) سے علیحدگی اختیار کر لے۔ ماکروں کے مطابق ان حملوں کی ’حقیقی مؤثریت‘ بھی نظر آئی ہے۔فرانسیسی صدر نے یہ بات جمعرات کے روز برسلز میں یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کی سربراہی اجلاس کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔ماکروں نے واضح کیا کہ اس قسم کا منظرنامہ ’اجتماعی طور پر ایک انحراف اور کمزوری کا سبب بنے گا‘۔ماکروں نے بتایا کہ وہ’جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو برقرار رکھنے‘ کی کوشش کے طور پر، آنے والے دنوں میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے سربراہان سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کریں گے، جن سے ان کی گفتگو جمعرات کو ہو چکی ہے۔












