واشنگٹن (ہ س)۔امریکی حکام کے مطابق منگل کے روز ایک امریکی’ایف – 18‘ لڑاکا طیارہ اس وقت بحیرہ احمر میں گم ہو گیا جب وہ طیارہ بردار بحری جہاز "ہیری ایس ٹرومین” پر اترنے کے بعد رن وے سے پھسل کر سمندر میں جا گرا۔ تقریباً ایک ہفتے کے اندر یہ اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔حکام کے مطابق، طیارہ لینڈنگ کے بعد مکمل طور پر رکنے میں ناکام رہا۔ دونوں پائلٹوں نے طیارے کے گرنے سے پہلے پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگا دی، بعد ازاں انھیں امدادی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا۔ایک فوجی افسر کا کہنا تھا کہ ابتدائی طبی معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ پائلٹوں کو صرف معمولی چوٹیں آئی ہیں، جب کہ رن وے پر موجود عملے کے کسی رکن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے بھی اسی طیارہ بردار بحری جہاز سے ایک اور لڑاکا طیارہ سمندر میں گر گیا تھا۔ یہ طیارہ اس وقت یمن میں حوثیوں کے خلاف امریکی فضائی کارروائیوں میں مدد کر رہا تھا۔امریکی "ایف-18” طیارے کی قیمت کم از کم 6 کروڑ ڈالر ہے۔ اس قسم کے حادثات عموماً نادر نوعیت کے ہوتے ہیں۔ تاہم اتنے مختصر وقفے میں دو طیارے گرنے کے واقعات کے بعد … طیارہ بردار بحری جہاز کی کارروائیوں پر ممکنہ طور پر سخت نظر ثانی کی جائے گی۔












