ہلدوانی : ۔سماج نیوز سروس ۔اتراکھنڈ کے شہر ہلدوانی کے ونبھول پورہ میں گزشتہ دنوں پیش آنے والے تشدد، آگ زنی اور تصادم کے واقعات پر حکومت نے مجسٹریٹ جانچ کا حکم صادر کر دیا ہے۔ ہلدوانی، جو کہ اتراکھنڈ کے ضلع نینی تال میں پڑتا ہے، میں 8 جنوری کو بڑے پیمانے پر ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ عوام اور پولیس کے درمیان تصادم کے بھی واقعات رونما ہوئے تھے۔ اس دوران متعدد گاڑیاں جلا دی گئی تھیں اور پولیس پر شدید پتھراؤ کیا گیا تھا۔ پولیس کے کئی جوان اس واقعہ میں زخمی ہوئے تھے۔ اس تشدد کے درمیان 6 افراد کی موت کی تصدیق بھی ہو چکی ہے، جبکہ 300 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔کسانوں کے ‘دہلی چلو مارچ کے پیش نظر ہریانہ میں سیکورٹی کے سخت انتظامات، سرحدیں سیل .ہلدوانی میں کشیدہ حالات پیدا ہونے کے بعد پورے شہر میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر دی گئی اور اسکول و کالج بھی بند کر دیے گئے۔ شہر میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا تھا، لیکن اب باہری علاقوں میں کرفیو ختم کر دیا گیا ہے۔ ونبھول پورہ میں ہونے والے تشدد کے بعد اب پولیس نے ملزمین کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس نے اب تک 5 افراد کو گرفتار کیا ہے اور اس معاملے میں 19 افراد کو نامزد ملزم بنایا گیا ہے۔ علاوہ ازیں 5,000 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے اس معاملے میں سخت رخ اختیار کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حکومت کی طرف سے اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی مجسٹریٹ جانچ کا حکم صادر کر دیا گیا ہے۔ اتراکھنڈ حکومت کی چیف سکریٹری رادھا رتوری نے کمایوں منڈل نینی تال کے کمشنر کو اس سلسلے میں ہدایت کی ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ ونبھول پورہ میں ہونے والے تشدد کے واقعہ کی مجسٹریٹ جانچ کا حکم دیا جا رہا ہے اور اس جانچ سے متعلق 15 دن کے اندر رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے۔ اس حکم کی نقل پولیس ڈائریکٹر جنرل دہرادون، ضلع مجسٹریٹ نینی تال اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ نینی تال کو بھی بھیج دی گئی ہے۔دریں اثناجھڑپوں کے اگلے دن جمعرات کی رات 9بجے سے کرفیو نافذ کردیاگیا تھا ہلدوانی بند پھول پورا علاقے ویران دیکھائی دے رہے ہیں۔ سڑکوں پر پتھر بکھرے ہوئے ہیںاور جلی ہوئی گاڑیوں کے جلے ہوئے باقیات بھی پھیلے ہوئے ہیںہلدوانی۔ اتراکھنڈ کے ہلدوانی ٹاؤن میں کرفیو کی برقراری کے دوران اہلکاروں نے کہا کہ ایک غیر قانونی تعمیر مدرسہ کے انہدام پر رونما ہونے والے تشدد کے واقعات میں چھ فسادی مارے گئے ہیں۔جمعرات کے روز 60سے زائد لوگوں کو نقصان ہوا جب مقامی مکینوں نے پولیس اور بلدی ورکرس پر پتھر برسائے اور پٹرول بم پھینکے تھے جس کے بعد کئی پولیس اہلکارایک پولیس اسٹیشن میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے جس کو بعد میں برہم ہجوم نے نذر آتش کردیاتھا۔خبر کے مطابق تین مختلف اسپتالوں میں جمعہ کے روز ایک صحافی سمیت سات لوگ زیرعلاج تھے۔ ان میں سے تین حالات کافی تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔ دیگر کو اسپتال سے روانہ کردیاگیا ہے۔ سپریڈنٹ آف پولیس (سٹی)ہربنس سنگھ نے پی ٹی ائی کو بتایاکہ مجموعی طور پر چھ فسادی مارے گئے ہیں۔جھڑپوں کے اگلے دن جمعرات کی رات 9بجے سے کرفیو نافذ کردیاگیا ہے ہلدوانی بند پھول پورا علاقے ویران دیکھائی دے رہے ہیں۔ سڑکوں پر پتھر بکھرے ہوئے ہیں اور جلی ہوئی گاڑیوں کے جلے ہوئے باقیات بھی پھیلے ہوئے ہیں۔جس مقام پر مدرسہ ہے جس میں ایک عمارت بھی شامل ہے جہاں نمازیں ادا کی جاتی ہے جس محلے سے جمعہ کے روز تشدد کے واقعات کی کوئی تازہ خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ اہلکاروں نے کہا کہ نینی تال سے قریب کے اس شہر میں 1000سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ منہدم عمارت سرکاری اراضی پر تھی اور میونسپل ورکرس اور پولیس نے عدالتی احکامات کے بعد یہ کاروائی انجام دی ہے۔ اہلکاروں نے کہاکہ چھتوں سے پتھر برسائے گئے جو ایسا لگتا ہے کہ پہلے سے جمع کرکے رکھے گئے تھے۔ مبینہ مارے گئے فسادیوں میں کچھ پر بندوق کی گولیوں کے زخم ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نینی تال(ڈی ایم) وندنا سنگھ نے فائرینگ کے احکامات کی تصدیق کی فسادیوں کے پیروں پر گولی مارنے کی ہدایت کے ساتھ جب ہجوم نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کردیاتھا۔ اتراکھنڈ پولیس سربراہ ابھینو کمار نے کہاکہ قومی سلامتی ایک کے تحت سخت کاروائی ان کے خلاف کی جائیگی جو پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث پائے جائیں گے۔دہلی میں بی جے پی اراکین پارلیمنٹ نے کہاکہ ہلدوانی تشدد ایسا لگا رہا ہے کہ ایک سازش” ہے اور خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کا انتباہ دیا ہے۔ ڈی جی پی کمار نے حالات کے معمول پر آنے او راگلے چوبیس گھنٹوں میں معمول کے حالات کا یقین دلایاہے۔ چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی نے ہلدوانی کا دورہ کیااور کچھ زخمیوں سے ملاقات کی۔ انہو ں نے تشدد کو ایک”منصوبہ بند حملہ” قراردیا او رکہاکہ ہتھیار پتھر اور پٹرول بموں کا اسٹاک اس کی طرف توجہہ دلاتا ہے۔ انہوں نے رپورٹرس کو بتایا کہ "ہماری خاتون پولیس اہلکاروں کی بے رحمی کے ساتھ پیٹائی کی ہے۔ انہوں نے ایک صحافی کو آگ کے شعلوں میں پھینکنے کی کوشش کی۔ جس کے لئے اتراکھنڈ جانا جاتا ہے اس امن سماجی اتحاد کے ماحول کو متاثرکرنے کی یہ کوشش کی گئی ہے”۔پولیس کے ایک اہلکار نے کہاکہ تشدد کے کئے اکسانے میں 15سے 20کے قریب ملوث دیکھائی دے رہے ہیں۔ دہلی میں شیو سینا (یو بی ٹی) ایم پی پرینکا چترویدی نے بی جے پی کے تشکیل دئے گئے "پولرائزشن” کو تشدد کے لئے ذمہ دار ٹہرایا۔












