اڑیسہ(کٹک) ،پریس ریلیز،ہماراسماج: ممنوع دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزمات کے تحت گرفتار مشہور عالم دین مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ میں گذشتہ کل فریقین کے وکلاء کی بحث کا اختتام عمل میں آیا جس کے بعد سیشن عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔خیال رہیکہ گذشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرتے ہو ئے سیشن عدالت کو مقدمہ کی سماعت دو ماہ میں مکمل کیئے جانے کی سخت ہدایت دی تھی۔ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت پر استغاثہ نے اس مقدمہ کی تفتیش کرنے والے دو افسران کی گواہی مکمل ہوتے ہوئے گواہان کے بیانات مکمل کیئے جانے کا فیصلہ کیا اورسیشن عدالت سے درخواست کی کہ وہ حتمی بحث کی سماعت کرے جس پر عدالت نے پہلے ملزم کا 313/ کا بیان درج کیا اور پھر اس کے بعد فریقین کے دکلاء کے دلائل کی سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا۔ کٹک سیشن عدالت نے فیصلہ ظاہر کرنے کے لیئے 22/ مئی کی تاریخ متعین کی ہے۔مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی نے سیشن عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک کی ہے، اب جبکہ کٹک سیشن عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، اس مقدمہ کی سماعت بھی مکمل ہوچکی ہے۔ القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزامات کے تحت مولانا عبدالرحمن کٹکی پر دہلی، جمشید پور اور کٹک میں تین علیحدہ علیحدہ مقدمات قائم کیئے گئے تھے، دہلی مقدمہ میں مولانا عبدالرحمن کٹکی کو ساڑھے سات سال کی سزا ہوئی تھی جبکہ جمشید پور مقدمہ سے انہیں بری کیا گیا تھا۔ دہلی مقدمہ میں ملنے والی ساڑھے سات سال سزا کو مولانا عبدالرحمن کٹکی کاٹ چکے ہیں۔سپریم کورٹ آف انڈیا میں مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی پیروی سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے کی تھی اور عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کیخلاف گواہی دینے کے لیئے پیش کیئے گواہان میں سے 20/ گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوچکے ہیں اس کے باوجود ملزم کو جیل میں رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا کے نٹراجن نے مخالفت کی تھی۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کی بجائے ٹرائل کو رٹ کو سخت ہدایت جاری کرنے جاری کی تھی جس کے مطابق ملزم کے مقدمہ کی سماعت اگلے تین ما ہ میں مکمل کرنا ہوگا نیز اس دوران کسی بھی فریق کو عدالتی کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت پر رہائی کے لیئے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے تین مرتبہ ہائی کورٹ اور دو مرتبہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی لیکن ہر مرتبہ سنگین الزامات کو بنیاد بناکر انہیں ضمانت پر رہا کرنے سے عدالتوں نے انکار کردیا۔واضح رہے کہ مولانا عبدالرحمن کٹکی کے خلاف دہلی، جمشید پور اور کٹک میں الگ الگ مقدمات قائم کیئے گئے تھے جس میں سے دہلی مقدمہ میں ساڑھے سات سال کی سزا ہوئی جبکہ جمشید پور مقدمہ سے مولانا عبدالرحمن کٹکی بری ہوچکے ہیں۔ مولانا عبدالرحمن کٹکی پرممنو ع تنظیم القاعدہ کے رکن ہونے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائی انجام دینے کی سازش رچنے اور غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جاکر ٹریننگ حاصل کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیئے گئے ہیں۔گذشتہ دس سالوں سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے۔












