تل ابیب(ہ س)۔اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ یمن سے اسرائیل کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا گیا ہے، جسے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی۔فوج کے مطابق میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل کے کئی علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔دوسری جانب، یمن میں حوثی جماعت نے جمعے کی شب اعلان کیا کہ انہوں نے تل ابیب کے بن گوریون ایئرپورٹ کو ایک ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔حوثیوں کے عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کی فورس نے یافا کے علاقے میں واقع اللّْد (بن گوریون) ایئرپورٹ پر "فلسطین 2″ نامی ایک ہائپر سانک بیلسٹک میزائل کے ذریعے خصوصی عسکری کارروائی” کی۔یحییٰ السریع کے مطابق "یہ کارروائی کامیاب رہی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد پناہ گاہوں کی طرف بھاگے اور ایئرپورٹ کی سرگرمیاں مکمل طور پر رک گئیں”۔ادھر اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 12 نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران یمن سے یہ دوسرا میزائل حملہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس حملے کے باعث بن گوریون ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت روک دی گئی۔واضح رہے کہ 2023 ئکے اختتام سے اب تک حوثی جنگجو متعدد بار اسرائیل اور بحیرہ احمر میں موجود ان جہازوں پر حملے کر چکے ہیں جنہیں وہ اسرائیل سے منسلک قرار دیتے ہیں۔اس کے جواب میں اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔گذشتہ ہفتے بھی حوثیوں نے 24 گھنٹوں کے دوران دو تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔اسرائیلی فوج نے ان حملوں کے جواب میں ویڈیوز جاری کیں جن میں اس کے لڑاکا طیارے الحدیدہ، ریس عیسیٰ اور الصلیف کے بندرگاہی علاقوں میں حوثی اہداف کو نشانہ بناتے دکھائے گئے۔ فوجی بیان کے مطابق ان فضائی کارروائیوں میں تقریباً 20 لڑاکا طیارے شریک ہوئے۔












