اوٹاوا، (یو این آئی) وزیر اعظم مارک کارنی کے ہندوستان کے دورے سے پہلے کینیڈا نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے امکان کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اب اس کی سرزمین پر پرتشدد جرائم میں ملوث نہیں ہے۔ٹورنٹو اسٹار کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے ایک سینئر اہلکار نے بدھ کو میڈیا کو بتایا کہ کینیڈا کی حکومت کو یقین ہے کہ اب ایسے واقعات رونما نہیں ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ "ہمارے پاس بہت مضبوط سفارتی تبادلے ہیں، بشمول قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان۔ میرے خیال میں اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسی کوئی سرگرمی نہیں ہو رہی ہے۔”مسٹر کارنی، جو اپریل 2025 میں کینیڈا کا چارج سنبھالا ہے، جمعرات کو ہندوستان کے لیے روانہ ہوں گے۔ یہ ان کے ہند-بحرالکاہل کے دورے کا پہلا پڑاؤ ہوگا۔ ہندوستان میں ممبئی اور نئی دہلی کا دورہ کرنے کے بعد مسٹر کارنی آسٹریلیا اور جاپان بھی جائیں گے۔ اس سفر کا مقصد دو طرفہ تعلقات کی تجدید اور تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، دفاع اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں تعاون کو بڑھانا ہے۔قابل ذکر ہے کہ کینیڈا نے ہندوستان پر 2023 میں خالصتان کے حامی کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا الزام لگایا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات خراب ہوگئے تھے۔ یہ تنازع اکتوبر 2024 میں دونوں ممالک کے ہائی کمشنرز اور سفارت کاروں کو واپس بلانے کا باعث بنا۔جب سے مسٹر کارنی وزیر اعظم بنے ہیں۔
دونوں ممالک نے اپنے ہائی کمشنرز کو کام پر واپس کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سینئر سطح کے مذاکرات نے بات چیت کی راہ ہموار کی ہے۔اپنے دورہ ہندوستان کے دوران مسٹر کارنی دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر کاروباری شخصیات سے ملاقات کریں گے۔ ہندوستان 2024 میں کینیڈا کا ساتواں سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تقریباً 30.8 بلین ڈالر تھی۔ دونوں ممالک اس وقت ایک جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں، جو 2030 تک تجارت کو 70 بلین ڈالر تک بڑھا سکتا ہے۔مسٹر کارنی نے کہا”ایک زیادہ بکھری ہوئی اور غیر یقینی دنیا میں، کینیڈا کی نئی حکومت اس بات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے کہ ہم کیا کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ہم ایک مضبوط، آزاد اور زیادہ لچکدار معیشت بنا رہے ہیں، بیرون ملک اپنی تجارت کو بڑھا رہے ہیں، اور اہم نئی بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کر رہے ہیں” ۔












